فائقہ مسکان، دورافتادہ ضلع چترال کی کرکٹر نے اپنا لوہا کیسے منوایا؟

بدھ 11 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 گیند بلا اور ایک بڑا گول میدان۔۔۔ یہ خواب تھے فائقہ مسکان کے۔ اور یہی خواب ان کو خیبرپختونخوا کے ضلع چترال سے پشاور تک لے آئے۔ فائقہ کا کہنا ہے کہ لگن، ہمت اور شوق ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ پشاور میں منعقدہ ویمن کرکٹ لیگ کے بار ے میں فائقہ نے جب سنا تو انہوں نے اپنی قابلیت پر یقین کرتے ہوئے حصہ لینے کی ٹھان لی۔

فائقہ مسکان کہتی ہیں کہ پہلے گھر والوں نے اعتراض کیا لیکن ان ک صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ان کو ٹرائل میں جانے کی اجازت دے دی۔ چترال سے130 لڑکیوں نے ٹرائل میں حصہ لیا اور صرف 4 سرفہرست رہیں اور انہی میں سے ایک تھیں فائقہ مسکان۔ اور بس یہاں سے دور افتادہ ضلع چترال کی فائقہ نے اپنے کرکٹ کے سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔

فائقہ کہتی ہیں کہ پشاور پہنچ کر اب تک ان کو کافی میچز میں کامیابی مل چکی ہے۔ اپنی جیت کو دیکھتے ہوئے وہ دنیائے کرکٹ میں آگے بڑھنے کا ارادہ کر چکی ہیں۔ کرکٹ ان کے بچپن کا شوق تھا لیکن اب تک کوئی پلیٹ فارم نہ ملنے کی وجہ سے وہ پیچھے تھیں۔ لیکن وہ اب رک نہیں پائیں گی، اپنا اور اپنے ضلع چترال کا نام پوری دنیا میں روشن کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘