پی ٹی آئی ایم این اے کا پبی گرڈ اسٹیشن پر دھاوا، عملے کو زدوکوب کیا

ہفتہ 21 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے پبی گرڈ اسٹیشن پر پی ٹی آئی کے ایم این اے ذوالفقار خان نے دھاوا بول کر عملے کو زدوکوب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بولنا پی ٹی آئی ایم پی اے فضل الٰہی کو مہنگا پڑگیا

ترجمان پیسکو نے بتایا کہ ایم این اے نے دفتر پر دھاوا بولتے ہوئے عملے کو زدوکوب کیا، جبکہ گرڈ اسٹیشن کا ریکارڈ اور رجسٹرڈ پھاڑ دیے۔

ترجمان نے بتایا کہ ممبر اسمبلی کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تاکہ ویڈیو نہ ریکارڈ ہوسکے۔

ترجمان کے مطابق ممبر قومی اسمبلی نے عجب باغ فیڈر پر لوڈمنیجمنٹ نہ کرنے پر اصرار کیا، حالانکہ اس فیڈر پر بقایا جات 171 ملین روپے جبکہ لائن لاسز 45 فیصد ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ عجب باغ فیڈر پر بجلی معمول کے مطابق فراہم کی جا رہی ہے، اضافی اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں پیسکو دفتر پر دھاوا بولنے پر علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہاکہ گرڈ اسٹیشن کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی نفرنی بھی طلب کی جا رہی ہے، جبکہ ممبر قومی اسمبلی کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے مراسلہ جمع کرایا جا چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

ورلڈ کپ سے پہلے ہی شائقین کا طوفان، فیفا کو ٹکٹوں کی تاریخ ساز ڈیمانڈ کا سامنا

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘