رفیعہ ناز 8 بہنوں میں سب سے بڑی ہیں۔ جب وہ فرسٹ ایئر میں تھیں تو ان کی شادی اپنے کزن سے ہوگئی جس کے بعد انہوں نے ایف ایس سی کرکے بی ایس سی میں داخلہ لے لیا۔ بی ایس سی کے رزلٹ سے کچھ دن قبل ہی ان کے ہاں پہلی بیٹی کی ولادت ہوئی جس کے بعد انہوں نے گومل یونیورسٹی سے بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اس کے بعد رفیعہ پبلک سروس کمیشن امتحان پاس کر سینیئر سائنس ٹیچر بنیں۔ سنہ 1998 میں انہوں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کیا۔ جس دن ایم اے کا وائیوا تھا اسی دن رفعیہ کے بیٹے عبدالرحیم بھی پیدا ہوگئے۔ اس کے لیے ممتحن کو وائیوا کے لیے زچہ کے پاس آنا پڑا۔
رفیعہ نے سنہ 2012 میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا اور ساتھ ہی ویمن اینڈ جینڈر اسٹڈیز میں بھی ماسٹر کیا۔ رفیعہ جب ایم فل کر رہی تھیں تو ساتھ ہی ان کی 2 بیٹیاں بی ایس کر رہی تھیں۔
پھر سنہ 2019 میں ان کے بیٹے عبد الرحیم نے لا ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا تو اسی دوران رفیعہ نے بھی اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی شروع کی۔ جولائی 2024 کو رفعیہ نے پی ایچ ڈی کا ڈیفنس دیا اور دوسری جانب اسی ماہ ان کے بیٹے عبد الرحیم کا بھی ایل ایل بی کا رزلٹ آیا۔ اور پھر ستمبر 2024 میں ماں اور بیٹے نے ایک ساتھ ایک ہی یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کیں۔
ڈاکٹر رفیعہ کہتی ہیں کہ اس سارے سفر میں ان کے والد نے انہیں بہت زیادہ سپورٹ کیا۔
وہ سنہ 2008 سے سنہ 2014 تک گورنمنٹ کی طرف سے برٹش کونسل کونیکٹنگ کلاس روم پروجیکٹ میں ایبٹ آباد کلسٹر کی کوآرڈینیٹر رہیں۔ اسی دوران اسامہ بن لادن کا واقعہ پیش آیا تو ایک پارٹنر آرگنائزیشن نے ایبٹ آبادی ہونے کے وجہ سے ڈاکٹر رفیعہ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں ڈاکٹر رفیعہ نے بڑی مضبوطی سے اپنا کیس لڑا، برٹش کونسل نے ان کا ساتھ دیا اور یوں انہوں نے وہ پروجیکٹ مکمل کیا۔ اسی پروجیکٹ میں رفعیہ نے انگلینڈ کے 5 دورے کیے۔
انگلینڈ گورنمنٹ نے ڈاکٹر رفیعہ کو کاؤنٹی درہم کے تحت بطور کیس اسٹڈی بھی لیا۔ کاؤنٹی درہم نے ڈاکٹر رفعیہ کو سنہ 2014 میں انڈیپینڈینٹ ریسرچر بریچ شاک اسکالرشپ ایوارڈ دیا۔
اب ڈاکٹر رفعیہ ڈائریکٹوریٹ آف کریکیولم ایھتکس، انٹر فیتھ ہارمنی اور جینڈر ایشوز پر کام کر رہی ہیں۔ سنہ 2019 میں ڈاکٹر رفیعہ نے یوتھ ڈیلیگیشن کے ساتھ سری لنکا کا وزٹ بھی کیا تھا۔