بیٹیوں کے ہاتھوں نذر آتش ہونے والا شخص اسپتال میں دم توڑ گیا

منگل 7 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوجرانوالہ میں 2 بیٹیوں کے ہاتھوں جلا دیے جانے والا شخص اسپتال میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: قتل کے مقدمے کا ڈراپ سین، سگا باپ ہی بیٹے کا قاتل نکلا

پولیس کا کہنا ہے کہ علی اکبر نامی شخص کی بیٹیوں نے پہلے اس کو رسیوں سے باندھا اور پھر اس کے جسم پر پیٹرول چھڑک اسے آگ لگا دی۔ اسپتال میں 5 روز زیر علاج رہنے کے بعد وہ بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔

واقعہ تھانہ سول لائن کے علاقے مغل چوک میں پیش آیا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مقتول کی دونوں بیٹیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ علاوہ ازیں مقدمے میں مقتول کی 2 بیویوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقتول نے 3 شادیاں کی ہوئی تھیں اور اس کے 12 بچے ہیں۔ اس کی پہلی بیوی وفات پا چکی ہے۔ مقتول کا پورا کنبہ ایک ہی گھر میں کرائے پر رہتا تھا۔

مزید پڑھیے: نوشہرہ : خاتون نے بیٹے اور شوہر کو کیوں قتل کیا؟

باپ کو مبینہ طور پر جلا کر ماردینے والی 16 سالہ انعم اور 12 سالہ یشفہ نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ قتل کی وجہ بتاتے ہوئے دونوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد نے دونوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: بچوں میں ایچ آئی وی کا تشویشناک پھیلاؤ، مزید اعداد و شمار سامنے آگئے

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقفہ، عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سے زائد سستا

میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن ماحول میں جاری، سیکیورٹی انتظامات مؤثر، بہترین ٹرن آؤٹ کی توقع، کمشنر میرپور

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

بھارتی کرکٹر ارشدیپ سنگھ نے اداکارہ سمرین کور کے ساتھ تعلقات کا اعلان کر دیا، پیغام میں کیا لکھا؟

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقفہ، عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سے زائد سستا

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان