سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیکا ایکٹ کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
یہ درخواست شہری محمد قیوم خان کی جانب سے حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والے پیکا ایکٹ کے خلاف دائر کردی گئی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں حالیہ ترمیم بنیادی انسانی حقوق اور آئین سے متصادم ہے اور اس کی شقیں آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کے برخلاف ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کو جعلی اسمبلی نے پاس کیا اور جعلی اسمبلی کے منتخب صدر نے اس کی توثیق کی۔
یہ بھی پڑھیے: صحافیوں کو اعتماد میں نہ لینا کوتاہی، متنازع ’پیکا ایکٹ‘ میں ترامیم کی جا سکتی ہیں، عرفان صدیقی
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ایکٹ کی شقوں کا فل کورٹ کے ذریعے جائزہ لیا جائے اور بینچ انسانی بنیادی حقوق کی روشنی میں پیکا ایکٹ کا جائزہ لے۔
سپریم کورٹ میں دائر اس درخواست میں صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔














