امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے کہا کہ وہ غزہ کو اپنے قبضے میں لینے کے منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ کو قبضے میں لیں گے اور ہم اسے ترقی دیں گے جس سے وہاں مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے بے شمار ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: عرب وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، فلسطینیوں کی بے دخلی کا ’ٹرمپ منصوبہ‘ مسترد
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر اردن غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے ملک میں بسانے سے انکار کرتا ہے تو امریکا اس کی امداد روک سکتا ہے لیکن دوسری طرف اردن کے شاہ عبداللہ کہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ کی زمین پر قبضے اور فلسطینیوں کی بےدخلی کے خلاف ہے۔
اس موقع پر صحافیوں نے دوبارہ شاہ عبداللہ سے امریکی صدر کے منصوبے کے متعلق سوال کیا مگر انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اس منصوبے کو ریاض میں ہونے اجلاس میں زیر غور لائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے بیان کو عالمی طور پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ کئی ممالک نے اس منصوبے کو فلسطین میں تنازع کو ہوا دینے کے مترادف قرار دے کر مسترد کیا ہے۔












