امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کو 23 لاکھ وفاقی ملازمین کو فارغ کرنے کا ہدف دیا ہے جس کے بعد کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں ایلون مسک نے وفاقی ملازمین کو ای میلز بھیجیں، ای میل میں ان سے استفسار کیا گیا تھا کہ انہوں نے پچھلے ہفتے کونسے کام کیے۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی حکم دیا گیا تھا ای میل کا جواب دیں ورنہ نوکری سے برخاست کیے جاؤ گے۔
اس ای میل کے بعد ایف بی آئی سمیت چند محکموں نے اپنے ملازمین کو ای میل کا جواب دینے سے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’کارکردگی بتاؤ نہیں تو گھر جاؤ‘، امریکی فیڈرل ایجنسیوں کو ایلون مسک کا حکم
ایف بی آئی کے سربراہ کاش پٹیل نے کہا کہ ہم اس معاملے میں اپنی چین آف کمانڈ اور پروٹوکولز کی پیروی کریں گے اور ملازمین کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جائے گا۔
ای میلز بھیجنے کے بعد ایلون مسک نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اب تک ہمیں بڑی تعداد میں اچھے جواب ملے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے ناموں پر آگے پروموشن کے لیے غور کیا جائے گا۔
A large number of good responses have been received already. These are the people who should be considered for promotion. https://t.co/Rc8sGBLemU
— Elon Musk (@elonmusk) February 23, 2025
واضح رہے کہ ایلون مسک کو ٹرمپ انتظامیہ میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشیئنسی (ڈی او جی ای) کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس کا مقصد امریکی وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم اور غیرضروری آپریشنز کو بند کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور بحریہ کی سربراہ کو برخاست کردیا
ڈی او جی ای کی سفارشات پر اب تک 20 ہزار وفاقی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے اور مزید 75 ہزار ملازمین سے رابطے جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایئر فورس جنرل چارلس کیو براؤن اور امریکی نیوی کی خاتون سربراہ ایڈمرل لیزا فرانچیٹی کو برخاست کردیا۔
ٹرمپ نے اپنی ایکس پوسٹ پر جنرل چارلس کیو براؤن کو عہدے سے ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جگہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈین ریزین کین کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کررہے ہیں۔














