آئی ایم ایف کا وفد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟

جمعرات 10 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات طے تھی، لیکن صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا کی نجی مصروفیات کے باعث ملتوی ہوگئی۔ اب  یہ ملاقات سوموار 14 اپریل کو 09:30 بجے ہوگی۔

فروری میں آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس آف پاکستان سے اور اُس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات ہوئی تھی۔ آئی ایم ایف کا وفد اِس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں بھی کر چکا تھا۔

غیر ترقیاتی بجٹ پر اظہار تشویش

 صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ملاقات میں آئی ایم ایف وفد نے اِس بات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ملک کا غیر ترقیاتی بجٹ ترقیاتی بجٹ سے بڑھ رہا ہے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے بیوروکریسی کے سروس اسٹرکچر پر بھی اپنے تحفظات ظاہر کیے کہ ایک ہی طرح کے امتحان پاس کرنے کے بعد بیوروکریٹس سول ایڈمنسٹریشن، واپڈا، ریلوے کی انتظامیہ چلا رہےہوتے ہیں جبکہ اِن جگہوں پر ٹیکنیکل لوگوں کو آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے

صدر سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ اِس پر ہم نے اُن کو تجویز دی کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور کرپشن اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک معیشت کو ڈیجیٹلائز نہیں کر دیا جاتا۔

میاں رؤف عطا کے مطابق ہم نے اُن سے کہا کہ آپ اگر پاکستان کی معیشت میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں تو  یہاں کرپشن کا مسئلہ حل کریں، جس کا حل پیپرلیس اور ڈیجیٹل ایڈمنسٹریشن ہے۔

چھوٹے چھوٹے کیسز بھی سپریم کورٹ تک آتے ہیں

صدر سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ ہم نے آئی ایم ایف وفد سے کہا کہ پرائمری سطح پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، اِس لیے چھوٹے چھوٹے کیسز بھی سپریم کورٹ تک آتے ہیں۔ جو چیزیں یونین کونسل یا ضلع کی سطح تک حل ہو جانی چاہییں وہ وہاں حل نہیں ہوتیں۔

نظامِ انصاف کی اصلاح

صدر سپریم کورٹ بار کا کہنا ہے کہ وہ کنٹریکٹس پر عمل درآمد کے قانون سے متعلق بھی بات کر رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں بتایا کہ موجودہ چیف جسٹس نظامِ انصاف کی اصلاح کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے متعلق کافی ساری چیزیں اُنہوں نے ڈیجیٹل کر دی ہیں۔ اور نچلی سطح پر بھی اُس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف وفد ضروری ملاقاتوں اور اہم امور پر بریفنگ کے بعد پاکستان سے روانہ

دوسرا ہم نے آئی ایم وفد کو بتایا کہ آپ لمبے عرصے کے لیے کم از کم 10-20 سال کے لیے پالیسیاں بنائیں جن کے دور رس اثرات ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان