بھارت پر جنگ بندی کے باوجود مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے

ہفتہ 10 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

6   اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملوں اور ڈرونز کی دراندازی کے بعد پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا جس کا مقصد بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا اور ملکی سالمیت کا دفاع تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی دفاعی نظام کو نابود کرنیوالے JF-17 تھنڈر کی خصوصی ویڈیو منظرعام

اس آپریشن میں پاکستان نے بیاس میں براہموس میزائل سائٹ، ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور، سورت گڑھ ایئر بیسز، بھارتی انٹیلیجنس کا راجوڑی میں تربیتی مرکز اور متعدد سپلائی ڈپو تباہ کیے اور ساتھ ہی بھارت کے مہنگے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارت کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا اور اس کا بجلی کا 70 فیصد گرڈ سسٹم بھی ناکارہ ہوگیا۔

بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے بعد بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے اور جنگ بندی پر آمادہ ہوگیا۔

بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ بھارت جنگ نہیں چاہتا، بشرطیکہ کہ پاکستان بھی ایسا ہی چاہے۔

پاکستان کی اس جوابی کارروائی کا اس صورتحال پر کیا اثر ہوا اور کیا اس جوابی کارروائی کے بعد انڈیا جنگ بندی کو ترجیح دے گا؟

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شاندار جوابی کارروائی نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان نے بہت برداشت کرنے کے بعد جواب دیا۔ پاکستان خود جنگ کو ہوا نہیں دے گا لیکن اس کو اگر کوئی مسلسل جارحیت کا نشانہ بنائے گا تو اس کو ایسا جواب دیا جائے گا کہ دنیا دیکھے گی۔

دفاعی ماہر راشد قریشی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے 3 دن تک بھارت کی شدید جارحیت کو برداشت کرنے کے بعد جو جوابی کارروائی کی وہ قابل تعریف تھی۔ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ کسی بھی عسکری ردِعمل سے پہلے سفارتی راستہ اپنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اتنا انتظار کیا گیا کہ عوام میں مایوسی پھیلنے لگی تھی لیکن پاکستان کی جانب سے پھر بھی برداشت کیا گیا کی کہ شاید بھارت اپنی جارحیت پر شاید قابو پا لے۔ حتیٰ کہ لوگ سوال کرنے لگے کہ جب ہمارے بچوں، ماؤں اور بہنوں کو شہید کیا جا رہا ہے تو ہماری جانب سے جواب کیوں نہیں جا رہا۔

مزید پڑھیے: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے کن ممالک نے رابطے کیے؟

راشد قریشی نے کہا کہ پاکستان نے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور بھارت کی سیاسی قیادت کو اس جارحیت سے باز رکھیں۔ پاکستان نے صاف طور پر کہا تھا کہ اگر ہم نے جواب دیا تو سب دیکھیں گے اور پھر دنیا نے وہ جواب دیکھا۔ ایسا مؤثر اور حیران کن کہ بھارت دنگ رہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ فی الحال بھارتی فوجی یا سیاسی قیادت اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کی ہمت کرے گی۔ تاہم مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ بھارت جیسے ہی موقع پائے گا دوبارہ کسی جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لے کر پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مسئلہ یہی پر ختم ہو جائے گا لہٰذا، پاکستان کو ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

دفاعی تجزیہ حارث نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ذمے دار جوہری ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے جبکہ بھارت نے پروپیگنڈا کی بنیاد پر پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر پر حملہ کیا گیا اور ہمارے سویلینز کو شہید کیا گیا جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے تباہ کیے اور صرف اپنا دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر اس کے اگلے ہی دن بھارت نے پاکستان پر ڈرونز فائر کرنا شروع کر دیے، جن میں سے تقریباً 80 ڈرونز کو پاکستان نے مار گرایا لیکن اس کے باوجود بھارت باز نہ آیا، اور اس نے جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانی شروع کر دیں کہ بھارت نے پاکستان کے بڑے شہروں پر حملہ کر دیا ہے، بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہو گئی ہے، پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے گرائے گئے ہیں اور پائلٹ پکڑ لیے گئے ہیں، وغیرہ۔

حارث نواز نے کہا کہ گزشتہ شب ایک بار پھر بھارت کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور شیخوپورہ پر میزائل داغے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سکھوں پر حملے کیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا جبکہ افغانستان پر بھی میزائل فائر کیے گئے۔ ان مسلسل اشتعال انگیزیوں کے بعد پاکستان نے آج صبح جوابی کارروائی میں بھارت پر میزائل فائر کیے اور ان کی ایئربیسز سمیت دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا جس سے بھارت کو خاصا نقصان ہوا اور بھارت نے خود بھی اس نقصان کو تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو پاکستان بھی اس کا بھرپور جواب دے گا اور یہی اس وقت ہماری حکمت عملی ہے اور آرمی چیف کی جانب سے بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بھارت نے مزید جارحیت کی تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

مزید پڑھیں: آپریشن ’بُنیان مَرصوص‘ کے بعد بھارت نے ہاتھ جوڑ لیے

 بھارت مزید حملے کرے گا یا نہیں، اس کے جواب میں حارث کا کہنا تھا کہ ہم بھارت پر بالکل بھی اعتماد نہیں کر سکتے اگر آج رات اور کل کا دن خیریت سے گزر جاتا ہے تب بھی ہم مکمل تیاری کے ساتھ رہیں گے اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور دیگر ممالک کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر بات چیت سے کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہ بہتر ہوگا۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس کشیدگی میں مداخلت نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کو اپنے معاملات خود حل کرنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک بہت مضبوط جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے لیکن جب انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوا تو انہوں نے فوری طور پر مداخلت کی اور اب کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ 2 جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا اس حد تک بڑھ جانا دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp