غزہ کے جنوبی شہر رفح میں منگل کے روز اسرائیلی فوج نے امدادی سامان کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 فلسطینی شہید اور 46 زخمی ہوئے، جب کہ 7 افراد لاپتا ہیں۔
فلسطینی ریاست کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض فوج نے، جو ان علاقوں کے اندر یا اس کے آس پاس تعینات ہے، امداد دینے کے بہانے بھوکے شہریوں کو ان مقامات پر جمع کرکے فائرنگ شروع کر دیں۔
امریکا اور اسرائیل کی مدد سے امدادی سامان تقسیم کرنے والی تنظیم، غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف، اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے افراتفری ختم کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور امدادی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ: ڈیڑھ ماہ تک تمام شہری قحط کا شکار ہوجائیں گے، عالمی ادارہ
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹمی بروس کا کہنا ہے کہ حماس اس امداد کی تقسیم کے خلاف ہے اور وہ غزہ کے ان امدادی مراکز کو روکنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں کچھ مسائل کا ہونا فطری ہے، مگر خوش خبری یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں تک امداد پہنچانے والی تنظیمیں، امداد پہنچانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امداد کون پہنچا رہا ہے یہ اہم نہیں کون پہنچا رہا ہے یہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک علاقے میں 8 ہزار خوراک کے بکس پہنچائے گئے ہیں، ایک بکس میں 5 لوگوں کے لیے 3 دنوں کا کھانا موجود ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی طرف سے غزہ میں امدادی سامان کی غیرجانبدار تنظیموں کے بجائے امریکا اور اسرائیل کی زیر نگرانی تقسیم کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔














