بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس کا انتخابات کے بعد اقتدار چھوڑنے کا اعلان

جمعرات 12 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے بعد اقتدار میں رہنے کے خواہشمند نہیں اور ان کا مقصد صرف عبوری مدت میں ملک کو جمہوری استحکام کی طرف لے جانا ہے۔

لندن کے معروف تھنک ٹینک ‘چیٹم ہاؤس’ میں خارجہ پالیسی پر خطاب کے بعد سوالات کا جواب دیتے ہوئے 84 سالہ محمد یونس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہرگز نہیں، میں اقتدار میں رہنے کا خواہشمند نہیں ہوں۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر اس مؤقف پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری کابینہ کے دیگر اراکین بھی اسی سوچ کے حامل ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش گزشتہ سال اگست سے سیاسی بحران کا شکار ہے جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی ایک عوامی بغاوت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ ملک میں انتخابات اپریل 2026 میں کرانے کا اعلان کیا گیا ہے، جو 2024 کی بغاوت کے بعد پہلا عوامی مینڈیٹ ہوگا۔

مزید پڑھیں:عبوری حکومت کا بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات اگلے سال اپریل میں منعقد کرنے کا اعلان

محمد یونس نے کہا کہ ان کی حکومت آئندہ ماہ ’جولائی چارٹر‘ کے نام سے اصلاحات کا ایک جامع پیکیج پیش کرے گی، جس کا مقصد شیخ حسینہ کے دور کے بعد جمہوری اداروں کی بحالی اور ازسرنو تعمیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیکیج ایک اتفاق رائے کمیشن کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، جو مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہا ہے تاکہ قابلِ قبول اصلاحات کا خاکہ مرتب کیا جا سکے۔

محمد یونس کا مؤقف ہے کہ اگرچہ حکومت کو اصلاحات کے لیے زیادہ وقت درکار ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے مسلسل دباؤ کے باعث اب وہ اپریل 2026 میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹا دی گئی، نئے نوٹ جاری

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عبوری مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہو اور جب اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کیا جائے تو عوام مطمئن ہوں۔ اگر انتخابات درست نہ ہوئے تو یہ بحران کبھی حل نہیں ہو سکے گا۔

اطلاعات کے مطابق لندن میں محمد یونس کی ملاقات بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمٰن سے بھی متوقع ہے، جنہیں آئندہ انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

59 سالہ طارق رحمٰن، سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں، جو 2008 سے لندن میں مقیم ہیں۔ انہیں شیخ حسینہ کے دور میں مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، جو بعد ازاں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔ وہ آئندہ دنوں میں وطن واپسی کے ارادے کے ساتھ پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک شہر جو دل میں اتر گیا

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے 3 سرکاری گاڑیوں کی اجازت

برازیل کی معروف فٹبالر نے اسلام قبول کرلیا، عمرے کی ویڈیو بھی شیئر کردی

آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟