کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا مقصد سیکیورٹی، ماحولیاتی آلودگی اور گندگی کے مسائل حل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: بہن بھائیوں کا 4 رکنی ڈکیت گروپ پکڑا گیا
ڈپٹی چیف کمیونٹی پولیسنگ کراچی عقیق اقبال کا کہنا ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی مراد علی سوہنی کی قیادت میں قائم کی گئی ہے۔
عقیق اقبال کا کہنا ہے یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو کراچی کے لیے کچھ کرنا اور اس کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم میں تاجر برادری ہر طبقے ہر مذہب سے لوگ موجود ہیں جو کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ شخصیات کراچی پولیس کو طاقت ور بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم میں کراچی کی تاجر برادری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک تھانے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے لے کر کیمروں تک 40 سے 50 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا کمیونٹی جسٹس پنچایت بل کیا ہے؟
ایس ایس پی ساؤتھ منظور علی کا کہنا ہے کہ سیف سٹی پروجیکٹ حکومت سندھ کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سیف سٹی پروجیکٹ آرٹلری میدان، سول لائن اور آرام باغ میں مکمل طور پر فعال ہے۔
منظور علی کے مطابق کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کراچی کی جانب سے بھی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا پتا لگانا ہو تو کیمرے اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے مانیٹرنگ روم سے جرائم پر کیسے نظر رکھی جاتی ہے؟
اانہوں نے بتایا کہ اے آئی سے کیمرا خود ڈیٹا فیچ کرکے دیتا ہے اور کوئی شخص اگر کرائم میں ملوث ہو تو کیمرا اس کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔













