شمالی علاقوں میں سیاحت یا سانحہ؟ محفوظ سفر کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر

بدھ 2 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان حالیہ برسوں میں شدید قدرتی آفات کا شکار رہا ہے، جن میں زلزلے، سیلاب، اور لینڈ سلائیڈنگ شامل ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر حکومت اور ماہرین نے شمالی علاقہ جات میں بڑھتے سیاحتی سانحات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور ہنگامی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو قدرتی آفات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی برس میں سیاحتی مقامات پر ہولناک حادثات رونما ہو چکے ہیں، جن میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔

شمالی علاقوں کے حسین مناظر لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کرتے ہیں، تاہم یہ علاقے اچانک آنے والے سیلابوں، گلیشیئر پگھلنے اور موسمیاتی شدت کے باعث اب خطرناک بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ علاقے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سوات کا دلخراش واقعہ، کیا صرف حکومت ذمہ دار ہے؟

حکومتی حکمتِ عملی اور ماہرین کی تجاویز

ایرلی وارننگ سسٹم:

ماہرین نے فوری طور پر ایک مؤثر پیشگی انتباہی نظام کے قیام پر زور دیا ہے۔ اس میں جدید موسمیاتی اسٹیشنز، دریاؤں پر پیمائشی آلات اور موبائل الرٹس جیسے نظام شامل ہوں تاکہ بروقت خطرات سے آگاہی ممکن ہو۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری:

پہاڑی علاقوں میں چھوٹے آبی ذخائر، نکاسی کے نظام، انحرافی راستے (diversion channels) اور مضبوط پشتوں کی تعمیر ناگزیر قرار دی گئی ہے۔

سیاحوں کی آگاہی:

بروشرز، سائن بورڈز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے سیاحوں کو ممکنہ خطرات، احتیاطی تدابیر اور ہنگامی اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

مقامی سطح پر امدادی مراکز:

ہر گاؤں اور محلے میں ایک ایسا مرکز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس فراہم کر سکے۔

اداروں کے درمیان رابطہ:

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، محکمہ موسمیات، سیاحت، بلدیات اور مقامی حکومتوں کے درمیان قریبی اشتراک اور رابطے پر زور دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ سوات: غیر قانونی مائننگ، تجاوزات اور ریسکیو میں کوتاہی، کب کیا ہوا؟

مقامی کمیونٹی کی شمولیت:

ماہرین کے مطابق مقامی آبادی کے تجربات اور علاقائی فہم کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔

سیاحوں کے لیے حفاظتی ہدایات:

روانگی سے پہلے اور دورانِ سفر موسم کی تازہ ترین پیشگوئی ضرور چیک کریں۔
دریا، نالے یا برساتی گزرگاہوں کے قریب کیمپ یا ہوٹل نہ لیں۔
ہمیشہ بلند جگہ پر قیام کریں تاکہ سیلابی پانی سے محفوظ رہیں۔
ہنگامی راستے، ریسکیو مراکز اور مقامی وارننگ سسٹمز سے آگاہی حاصل کریں۔
رات کے وقت غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ایمرجنسی کٹ (فرسٹ ایڈ، پاور بینک، ٹارچ، سیٹی، پانی) ہمراہ رکھیں۔
مقامی افراد کی ہدایات پر عمل کریں۔
لوکیشن عزیزوں کے ساتھ شیئر کرتے رہیں۔

مزید پڑھیں: دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاحت کو محفوظ اور معیشت کے لیے سودمند بنانا ہے تو قدرتی آفات سے بچاؤ اور فوری رسپانس کو ترجیح دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر، پاکستان کے خوبصورت پہاڑی علاقے انسانی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا نوحہ بن کر رہ جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک شہر جو دل میں اتر گیا

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے 3 سرکاری گاڑیوں کی اجازت

برازیل کی معروف فٹبالر نے اسلام قبول کرلیا، عمرے کی ویڈیو بھی شیئر کردی

آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟