اسحاق ڈار نے نواز شریف کے عمران خان سے ملنے اڈیالہ جانے کی باتوں کو قیاس آرائی قرار دی ہے۔
لاہور میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعظمم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نواز شریف کے جیل میں عمران خان سے ملنے کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں، یہ کسی کی خواہش ہوسکتی ہے مگر ہمیں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا نواز شریف عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل جائیں گے؟ رانا ثنا اللہ نے بتا دیا
انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود لے گا، ہم تمام پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان پر انڈیا نے حملہ کیا تب بھی ہم نے سب جماعتوں کو ساتھ ملایا، یہ مثالی تجربہ ہوا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم قانون و آئین کو ایک طرف رکھیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے کنارے پر کھڑا تھا، پی ڈی ایم گورنمنٹ نے ملک کو سہارا دیا، ہم نے سیاسی طور پر نقصان بھی اٹھایا لیکن اب حالات سنبھل گئے ہیں اور معاشی استحکام آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلز پارٹی وفاق اور پنجاب کی حکومتوں میں شامل ہو سکتی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی ہورہی ہے اس کے لیے ہم تیاری کررہے ہیں، ہمارے نوجوان شہید ہوئے تو اگلے کچھ وقت میں 30 خوارج کو ہلاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ سیزفائر قائم ہے، ان کی سیاسی قیادت کی مجبوری ہے اس لیے بیانات دے رہے ہیں لیکن ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ اس معاملے کے بعد ہمیں عالمی طور پر عزت ملی اور بین الاقوامی تعلقات میں مثبت تبدیلی آئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ وہ ہمارا اتحادی ہے اور اتحادی رہے گی، ان کے ساتھ ہماری بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے، جب ہم نے حکومت شروع کی تب پیپلز پارٹی کے بغیر ہماری تعداد پوری نہیں تھی، مشکل وقت کے ساتھیوں کو اچھا وقت آنے پر چھوڑا نہیں جاتا۔














