ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مرگی، اعصابی درد اور بے چینی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا گیباپینٹن (Gabapentin) دماغی بیماریوں جیسے ڈیمینشیا (یادداشت کی کمی) اور ذہنی کمزوری (Mild Cognitive Impairment) کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا مرد دماغی طور پر خواتین سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے؟
جریدے ریجنل انستھیزیا اینڈ پین میڈیسن میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے گیباپینٹن استعمال کرنے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ 29 فیصد جبکہ ذہنی کمزوری کا خطرہ 85 فیصد زیادہ پایا گیا۔

تحقیق کے مطابق 18 سے 64 سال کی عمر کے افراد، جنہیں عام طور پر ذہنی کمزوری کا خطرہ نہیں ہوتا، میں یہ خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ پایا گیا۔
کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی، کلیولینڈ کے طبی طالبعلم نافیس اغریری اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے نتائج میں کہا کہ اس دوا کے استعمال کرنے والے بالغ مریضوں میں دماغی کمزوری کے امکانات کا بغور مشاہدہ ضروری ہے۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
محققین نے 26,400 سے زائد مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز کا جائزہ لیا جنہیں کمر کے دیرینہ درد کے لیے گیباپینٹن تجویز کی گئی تھی، اور ان کا موازنہ ایسے مریضوں سے کیا جنہیں یہ دوا نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:دماغ خور امیبا کیخلاف نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا انتباہ
نتائج کے مطابق جن مریضوں کو گیباپینٹن 6 یا اس سے زائد بار تجویز کی گئی، ان میں 10 سال کے اندر ڈیمینشیا یا ذہنی کمزوری کی تشخیص کا امکان کہیں زیادہ تھا۔ 35 سے 64 سال کے درمیان مریضوں میں خطرہ دو سے تین گنا زیادہ تھا۔

جنہیں دوا 12 بار یا اس سے زیادہ دی گئی، ان میں ڈیمینشیا کا خطرہ 40 فیصد اور ذہنی کمزوری کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھ گیا۔
دوا کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے؟
تحقیق میں بتایا گیا کہ گیباپینٹن دماغ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطہ کمزور کرتی ہے، جس کی وجہ سے یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

نتائج اور آئندہ اقدامات
تحقیق چونکہ مشاہداتی (observational) ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ گیباپینٹن براہ راست ڈیمینشیا کا سبب بنتی ہے، تاہم یہ ایک مضبوط اشارہ ضرور ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تحقیق مستقبل میں اس دوا کے دماغ پر اثرات پر مزید سائنسی تجزیے کی بنیاد بنے گی۔













