پاکستان کرکٹ بورڈ میں اربوں روپوں کے گھپلوں کا انکشاف، محسن نقوی بھی زد میں آسکتے ہیں؟

اتوار 13 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مالی سال 2024-23 کی آڈٹ رپورٹ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں 6 ارب روپے سے زائد کی غیرقانونی ادائیگیاں، مشتبہ تقرریاں، اور شفافیت سے محروم ٹھیکے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی سی بی کے لیے 18 ارب 30 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری

سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، آڈٹ میں پی سی بی کے مالی معاملات، گورننس، شفافیت اور کنٹرول سسٹمز پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کو دی گئی بے جا مراعات، اہلیت کے بغیر کی گئی تقرریاں، اور قواعد و ضوابط کے برعکس ٹھیکوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

چیئرمین پی سی بی کو غیر مجاز مراعات

رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی سی بی کو فروری 2024 سے جون 2024 کے دوران 4.17 ملین روپے کی غیر مجاز ادائیگیاں کی گئیں، جن میں یوٹیلیٹی بلز، پیٹرول، اور رہائش کے اخراجات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی بطور چیئرمین پی سی بی تقرری کیخلاف درخواست ایک سال بعد سماعت کے لیے مقرر

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ان ادائیگیوں کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ چیئرمین اس وقت وفاقی وزیر داخلہ بھی تھے اور ان مراعات کا وہ قانوناً پہلے سے مستحق تھے۔

پی سی بی نے جواب دیا کہ یہ ادائیگیاں بائی لاز کے مطابق جائز ہیں، لیکن آڈٹ نے مؤقف مسترد کرتے ہوئے رقم کی واپسی اور ریکارڈ کی تصدیق کی ہدایت کی۔

ڈائریکٹر میڈیا کی مشتبہ تقرری

اکتوبر 2023 میں پی سی بی نے 9 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ڈائریکٹر میڈیا کو 2 سال کے لیے تعینات کیا۔ آڈٹ نے انکشاف کیا کہ درخواست، تقرری، معاہدے پر دستخط، اور دفتر میں شمولیت سب کچھ ایک ہی دن (2 اکتوبر 2023) کو ہوا، جس پر مکمل تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

پولیس اہلکاروں کو کھانے کے اخراجات کی ادائیگی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی سی بی نے 63.39 ملین روپے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھانے کے اخراجات کی مد میں ادا کیے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی تبدیل کی جا رہی ہے؟

پی سی بی کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی ٹیموں کو VVIP سیکیورٹی دی گئی جس کے لیے بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی، تاہم آڈٹ نے جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

کراچی میں انڈر-16 کوچز کی غیر قانونی تقرری

آڈٹ رپورٹ کے مطابق کراچی میں انڈر-16 ریجنل کرکٹ کوچز کو اہلیت کے تقاضوں کے بغیر 5.4 ملین روپے کی ادائیگیوں کے ساتھ بھرتی کیا گیا۔ معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہدایت دی گئی۔

ٹکٹنگ کنٹریکٹ کی غیر شفاف الاٹمنٹ

پی سی بی نے 120,000 ڈالر مالیت کا ٹکٹنگ کنٹریکٹ بغیر اوپن بولی کے الاٹ کیا، جسے آڈٹ نے قواعد کے منافی قرار دیا۔

میچ آفیشلز کو زائد ادائیگیاں

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میچ فیس کی مد میں 3.8 ملین روپے زائد ادا کیے گئے، جسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔

غیر ضروری کوسٹرز کی خدمات پر خرچ

22.5 ملین روپے کوسٹرز کی غیر ضروری خدمات پر خرچ کیے گئے، جو ضیاع قرار دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:مصباح الحق ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی دوڑ میں شامل، پی سی بی میں بے یقینی برقرار

سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے ڈیزل کی خریداری

پنجاب حکومت کی فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 19.8 ملین روپے کا ڈیزل خریدا گیا، جو آڈٹ کے مطابق پی سی بی کی ذمہ داری نہ تھی۔

زمینی سفر کا ٹھیکہ بغیر مسابقتی بولی کے

198 ملین روپے مالیت کا سفر سے متعلق ٹھیکہ بغیر کسی اوپن مقابلے کے دیا گیا، جس پر اعتراض اٹھایا گیا۔

میڈیا رائٹس سستے داموں فروخت کرنے سے نقصان

آڈٹ کے مطابق میڈیا رائٹس ریزرو پرائس سے کم نرخ پر فروخت کیے گئے، جس سے پی سی بی کو 439.9 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

دفتر کے کرائے پر جعلی لیز معاہدہ

ایک دفتر کے لیے 3.9 ملین روپے کا کرایہ جعلی لیز ایگریمنٹ کے ذریعے ادا کیا گیا، جسے آڈٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔

نشریاتی حقوق کا غیر شفاف الاٹمنٹ

بین الاقوامی نشریاتی حقوق بغیر اوپن بولی کے 99,999 ڈالر (تقریباً 27.4 ملین روپے) میں الاٹ کیے گئے۔

اسپانسرشپ کی 5.3 ارب روپے کی رقم باقی

پی سی بی کی جانب سے 5.3 ارب روپے کی اسپانسرشپ کی رقم تاحال وصول نہیں کی جا سکی، جو مالی بدانتظامی کی بڑی مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈومیسٹک کرکٹ کا مضبوط ڈھانچہ ہی بہترین کرکٹرز پیدا کرتا ہے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

رپورٹ کے مطابق پی سی بی کے موجودہ ڈائریکٹر میڈیا نے کہا کہ یہ تمام معاملات موجودہ چیئرمین محسن نقوی کے دور سے پہلے کے ہیں، اور ان معاملات میں سابق چیئرمینز سے مؤقف لینا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا