ایران کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں 5 ڈرون کسی یورپی شہر پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے حالیہ تنازعے کے بعد مغربی ممالک کو خود کو محفوظ سمجھنا چھوڑ دینا چاہیے۔
ایرانی عدلیہ کے سابق سینیئر عہدیدار اور سپریم لیڈر کے مشیر محمد جواد لاریجانی نے سرکاری ٹیلی وژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپین اب اپنے ہی ملکوں میں آرام سے نہیں گھوم سکتے۔’یہ بالکل ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں پانچ ڈرون کسی یورپی شہر پر حملہ کریں۔‘
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں امریکا کے جنگی اثاثے کیا ہیں اور کہاں کہاں موجود ہیں؟
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے، 2015 کے جوہری معاہدے کے فریق برطانیہ، فرانس اور جرمنی ممکنہ عدم تعمیل کی صورت میں ایران کیخلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
🟥✨Former Iranian Official Warns of Drone Strikes on European City
On July 12, 2025, Mohammad Javad Larijani, a former senior Iranian official and advisor to Supreme Leader Ali Khamenei, warned that “five drones could strike a European city in the near future,” suggesting… pic.twitter.com/3JtitTZjOj
— Met_ariel (@met_ariel) July 13, 2025
اسی ماہ ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ملک سے نکال دیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی آلہ کار ہیں اور انہوں نے اسرائیل و امریکا کے حالیہ حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلیجنس فراہم کی۔
گزشتہ ہفتے، برطانوی پارلیمنٹ کی انٹیلیجنس و سیکیورٹی کمیٹی نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ ایران برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے روس اور چین کے برابر خطرہ بن چکا ہے۔
گزشتہ سال یورپی پارلیمنٹ نے بھی ایران سے درپیش خطرات کے بارے میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی حکومت کا یورپ میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا استعمال ہماری داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے تباہ کن تھرڈ جنریشن ’خیبر شکن‘ میزائل کی خصوصیات کیا ہیں؟
یورپ کے لیے جواد لاریجانی کی یہ وارننگ ایسے وقت آئی ہے جب چند روز قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فلوریڈا میں چھٹیاں مناتے ہوئے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

’صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ کی حمایت کر کے ایسا کچھ کیا ہے کہ وہ اب مار-اے-لاگو کے سورج میں سکون سے لیٹ نہیں سکتے۔ ’جب وہ دھوپ میں پیٹ کے بل لیٹے ہوں، تو ایک چھوٹا سا ڈرون انہیں نشانہ بناسکتاہے، یہ بالکل آسان ہے۔‘
’اسرائیل اور امریکا دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں‘
جواد لاریجانی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کی کوشش کریں۔ ’امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو ہمارا جواب اس بار زیادہ سخت اور غیر متوقع ہوگا، امریکا بہت احتیاط سے حساب لگا رہا ہے۔‘
انہوں نے 13 جون کو ایران پر ہونے والے اچانک حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب ہمیں حیرت کا سامنا ہوا، ہمیں توقع نہیں تھی کہ اس طرح کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ ’انہوں نے ایران کے اندر متعدد ایجنٹ داخل کر دیے تھے۔‘
جواد لاریجانی نے بتایا کہ جنگ کے بعد 700 سے زائد ایرانیوں کو اسرائیل کی حمایت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ’دشمن اب اپنے پرانے طریقوں پر انحصار نہیں کر سکتا، اس بار ہم حیران نہیں ہوں گے۔‘














