زرعی شعبے میں نمایاں اصلاحات اور جدیدیت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے حکومت نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نافسا) کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل یعنی ایس ایف آئی سی کی سہولت کاری سے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن یعنی ڈی پی پی اور اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ کو ضم کر کے یہ نئی اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جو زرعی اجناس اور خوراک کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:میتھائل برومائیڈ اسکینڈل بے نقاب، کمپنی کا لائسنس معطل، ایک ملین ڈالر کی شپمنٹس روک دی گئیں
حکومتی اعلامیے کے مطابق نافسا کے قیام کا بنیادی مقصد ایک جدید اور محفوظ زرعی نظام کا نفاذ ہے، جو نہ صرف پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ ملکی زرعی برآمدات کو بھی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
اتھارٹی کے تحت ڈی پی پی کی لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن اور جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے، جو زرعی مصنوعات کی جانچ اور تصدیق کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
مزید پڑھیں:تحفظِ خوراک کے چیلنجز سے نمٹنا ہے تو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہوگا، صدر مملکت
’ایک اور اہم پیشرفت کے طور پر میتھائل برومائیڈ کے غیر ضروری استعمال کو محدود کر دیا گیا ہے، جس سے فی کنٹینر 40 ہزار روپے تک کی لاگت کی بچت ممکن ہوگئی ہے، اس اقدام سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔‘
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے زرعی شعبے میں اصلاحات کا یہ سلسلہ نہ صرف شفافیت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ جدیدیت کی نئی راہیں بھی کھول رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔