وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں محرم الحرام مجالس کے پُرامن انعقاد، سانحہ سوات، حالیہ بارشوں کے نقصانات، اسٹاک مارکیٹ کی بہتری اور حکومتی کارکردگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ، وزرائے اعلیٰ پنجاب، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہترین انتظامات پر سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس برس محرم کے جلوس اور مجالس پرامن ماحول میں منعقد ہوئیں جو قومی یکجہتی، بھائی چارے اور عوامی اتحاد کا مظہر ہے۔
اجلاس میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس کیا گیا۔ وزیراعظم نے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کو دلخراش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے سبق سیکھنا ہوگا اور آئندہ کے لیے مؤثر پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم ایز کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سانحہ سوات: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو انکوائری رپورٹ پیش کردی گئی، کون کون ذمہ دار ٹھہرا؟
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے ایک فعال ادارہ بن چکا ہے، اس کے چیئرمین اور ٹیم بہترین کاوشیں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بارشوں کا سلسلہ ختم ہوتے ہی چاروں صوبوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس بلایا جائے گا تاکہ آئندہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی بنائی جا سکے۔
شہباز شریف نے اسٹاک مارکیٹ انڈیکس کی تاریخی سطح پر پہنچنے کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ سرمایہ کار مارکیٹ پر اعتماد کر رہے ہیں، جو خوش آئند ہے۔ معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی جی پی کی گروتھ کے لیے ہمیں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قومی جذبے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، اور اس دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اب ہر وزارت کی کارکردگی کا 2 ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا۔ جہاں کارکردگی اچھی ہوگی وہاں شاباش دی جائے گی، اور جہاں کمی ہوگی اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، ضرورت پڑی تو تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی۔














