عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کی کوششیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں اور 2050 تک مزید 4 کروڑ 10 لاکھ افراد انتہائی غربت میں دھکیلے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسم، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، اور روزگار کے مواقع میں کمی ترقی پذیر ممالک بالخصوص جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کو زیادہ متاثر کرے گی۔
رپورٹ کا عنوان ’دی فیوچر آف پوورٹی‘ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر معاشی پیداوار میں 2100 تک 23 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایک بڑھتا ہوا عالمی بحران اور پاکستان کی آزمائش
رپورٹ میں امیر ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کم آمدنی والے ممالک کو مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور تربیت کی فراہمی کے ذریعے مدد دیں تاکہ وہ موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔
عالمی بینک نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، تعلیم، صحت، روزگار اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات سب تک پہنچ سکیں۔
مزید کہا گیا کہ معمولی سی معاشی عدم مساوات میں اضافہ بھی غربت میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے جامع اور منصفانہ ترقی کی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔














