یوم استحصالِ کشمیر: بھارت کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ریلی سے خطاب

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر عقیدت اور جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت اور کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے وادی کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا۔ ان کے بقول، ان یکطرفہ اقدامات نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جس سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کر رہا ہے، وہی اس کی مستقل رکنیت کا بھی خواہاں ہے۔ یہ کھلا تضاد ہے جسے عالمی برادری کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی باقاعدہ کوشش کی۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اور ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ بیرونی افراد کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت کے دروازے کھولے جا چکے ہیں۔ بھارت کا اصل مقصد کشمیریوں کو ان کی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدل دینا ہے۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کی ملاقات، فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق

ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کی ثقافت اور تشخص مٹانے کے لیے بھارتی رنگ تھوپے جا رہے ہیں اور سری نگر میں دہلی کی کٹھ پتلی حکومت مسلط کر دی گئی ہے، جو صرف مرکزی حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹریز قرار دینے کے بعد اب ایک نئی انتظامی تقسیم کی باتیں شروع کر دی ہیں۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا یہ دعویٰ کہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا تھا، اور اب انہی قراردادوں سے مکرنا اس کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ لاکھوں کشمیری بھارتی جبر کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں سیاسی قیدی جیلوں میں قید ہیں، سینکڑوں کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں اور میڈیا کو مکمل خاموش کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں خواتین آج بھی نیم بیوہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جنہیں یہ تک نہیں معلوم کہ ان کے شوہر زندہ ہیں یا شہید ہو چکے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اُن ہزاروں شہداء کو یاد رکھنا ہے جنہوں نے بھارتی مظالم کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں۔ کشمیر ایک دن آزاد ہوگا اور کشمیری خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

آج 5 اگست 2025 کو کشمیری عوام اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری چھٹے یومِ استحصالِ کشمیر کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ یہ دن اس سانحہ کی یاد دلاتا ہے جب 2019 میں نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔

5 اگست 2019 کو کیے گئے ان اقدامات کو کشمیری عوام، پاکستان اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے غیر قانونی، غیر اخلاقی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا۔ ان فیصلوں کے بعد لاکھوں اضافی بھارتی فوجی وادی میں تعینات کیے گئے، کشمیری قیادت کو قید یا نظر بند کیا گیا، انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور ذرائع ابلاغ پر طویل پابندیاں لگائی گئیں، زمین اور ملازمتوں کے قوانین میں تبدیلیاں لاکر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

یومِ استحصال کشمیر: قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

قومی اسمبلی نے یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اقدامات، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی شدید مذمت کی گئی۔

یہ قرارداد وفاقی وزیر امورِ کشمیر سینیٹر امیر مقام نے پیش کی، جسے ایوان نے مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا۔

قومی اسمبلی کی قرارداد کے اہم نکات:

5 اگست 2019 کو بھارت نے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کر کے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کی۔

ایوان بھارت کے تمام غیر آئینی اقدامات، قوانین اور پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول تک پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

ایوان نے کشمیری عوام کی قربانیوں، بہادری اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی۔

ایوان نے مطالبہ کیا کہ تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان سینیٹر امیر مقام نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت مسلسل کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35A کو غیر قانونی طور پر ختم کرکے بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کو پامال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔ بھارت نے بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ بنایا۔ ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں سے پاکستان کی محبت کم نہیں ہو پائی۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ایوان نے اس موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے، بھارتی فوج کے جرائم کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیریوں پر ایک نیا ظلم مسلط کیا تھا، جس کے بعد سے ہر سال یومِ استحصال منایا جاتا ہے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کا پیغام

کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں تاکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جائے کہ:

کشمیری آج بھی بھارت کے ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کرتے،

وہ اپنے حقِ خودارادیت کے لیے پرعزم ہیں،

اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہی اب کشمیریوں کی آخری امید ہیں، مشعال ملک

یوم استحصال کشمیر، دنیا بھر میں احتجاج

دنیا کے مختلف شہروں میں کشمیری کمیونٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آج بھارتی سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کریں گی تاکہ مودی حکومت کے غیر آئینی اقدامات اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو عالمی ضمیر کے سامنے لایا جا سکے۔

تحریک حریت کشمیر کی قیادت کا عزم

حریت قیادت نے کہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر پر بھارت کا سامراجی قبضہ ختم ہوگا اور کشمیری اپنی آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp