نیویارک، پاکستانی نژاد خاتون کا تیار کردہ مجسمہ عدالت کے باہر نصب

جمعرات 26 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک میں اپیلیٹ عدالت کے باہر پاکستانی نژاد مجسمہ ساز شازیہ سکندر کا تیار کردہ ایک خاتون جج کا مجسمہ لگا دیا گیا ہے۔

پاکستانی نژاد مجسمہ ساز شازیہ سکندر کا کہنا ہے کہ یہ 8 فٹ لمبا مجسمہ مزاحمت کی فوری ضرورت کی علامت ہے۔

گلابی رنگ کے کنول کے پھول سے اُبھرتے ہوئے اس سُنہرے رنگ کے مجسمے نے جسٹس روتھ گنزبرگ کا مشہور لیس کالر پہن رکھا ہے۔

53 سالہ شازیہ سکندر پاکستانی نژاد امریکی آرٹسٹ ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ مجسمہ اُس بین الاقوامی تحریک کا حصہ ہے جو 21 ویں صدی کی ثقافتی اقدار کے حساب سے عوامی مقامات میں طاقت کی روایتی نمائندگی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔

اس مجسمے کا نام ہے ’’ناؤ‘‘ ( کیونکہ اس کی ضرورت ابھی) ہے، یہ ایک ایسے وقت پر بنایا گیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین کے تولیدی حقوق خطرے میں ڈال دیئے گئے ہیں۔

شازیہ سکندر کے مطابق 2020 میں جسٹس روتھ گنز برگ کے انتقال کے بعد سے خواتین کے حق میں قانون سازی کو بہت بڑا جھٹکا لگا۔

واضح رہے کہ جس جگہ یہ مجسمہ نصب کیا گیا ہے وہاں پر کبھی زرتشت اور کنفیوشس جیسے بڑے بڑے قانون سازوں کے مجسمے لگائے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالعدم ایکشن کمیٹی ممبران شوکت نواز اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج

صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی منظوری دیدی

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان

یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم

ویڈیو

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟