حماس نے غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع قابض اسرائیلی فوجی کیمپ پر بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کا غیر معمولی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا اعتراف اسرائیلی فوج نے بھی کیا ہے۔
اسرائیلی پلاٹون کمانڈر ہلاک
اسرائیلی فوج (IDF) نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی غزہ میں ایک کارروائی کے دوران لیفٹیننٹ اوری گرلیک، 20 سالہ پلاٹون کمانڈر، اپنے ہی فوجی دھماکے کے پھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔ گرلیک کا تعلق کفیر بریگیڈ کی شمشون بٹالین اور قصبے میتار سے تھا۔
ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ خان یونس میں عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کے دوران پیش آیا۔ دھماکہ کیوں اور کیسے ہوا، اس کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔ فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسرائیلی اخبار‘یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق اس حادثے کے بعد غزہ میں زمینی کارروائیوں اور سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 899ہوگئی ہے، جن میں 2 پولیس اہلکار اور وزارتِ دفاع کے 3 شہری ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔
خان یونس پر حملہ اور جھڑپیں
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ خان یونس میں ایک فوجی کیمپ پر حماس نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ اگرچہ اس دوران ’سیکیورٹی میں کچھ خامیاں‘ سامنے آئیں، تاہم فوج کا دعویٰ ہے کہ اہلکاروں نے مقابلہ کرتے ہوئے حملہ پسپا کیا۔ جھڑپوں میں 3 فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔













