چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا اگلا اسپیل 2 سے 11 ستمبر تک متوقع ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں مون سون کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 7 اسپیل گزر چکے ہیں جبکہ 8 واں اسپیل 2 سے 11 ستمبر تک متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے راوی میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق رواں برس مون سون معمول سے 22 فیصد زیادہ شدت کے ساتھ آیا، جس کے باعث اب تک 800 افراد جاں بحق اور 1100 زخمی ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن سے زائد ریلیف سامان پہنچایا جاچکا ہے اور این ڈی ایم اے ہر متاثرہ شخص تک مدد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران خیبر پختونخوا حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے بہترین اقدامات کیے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق فراہم کردہ رپورٹس اب تک درست ثابت ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں 2 ڈگری اضافہ ہوا تو آئندہ 52 برسوں میں 65 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کی دریائے ستلج کے کنارے آباد لوگوں کو انخلا کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں، اگلے سال سیلاب کی شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پنجاب اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ
محکمہ موسمیات کے مطابق منگل اور بدھ کے روز لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال اور قصور میں شدید بارشیں متوقع ہیں جبکہ جہلم، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب اور پاکپتن میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔
ان بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج سے ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کا امکان، این ڈی ایم اے نے نئی ہدایات دیدیں
اسی طرح نیلم ویلی، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ اور مظفرآباد میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے اس دوران سیلابی صورتحال کے باعث عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔














