امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دارالحکومت میں قتل کے ملزمان کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔
کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو قتل کرے تو سزا موت ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:جنوبی کوریا میں امریکی فوجی اڈوں کی زمین امریکی ملکیت ہونی چاہیے، ٹرمپ
واشنگٹن میں 1957 کے بعد سے سزائے موت نافذ نہیں کی گئی، جبکہ 1981 میں ڈسٹرکٹ کونسل نے اسے ختم کر دیا تھا۔
اگلے 10 برس میں وفاقی قرض 4 کھرب ڈالر کم ہوگا
اسی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی اقتصادی پالیسیوں اور ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ کے باعث اگلے 10 برس میں وفاقی قرضہ 4 کھرب ڈالر کم ہوگا۔

وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ افراطِ زر 1.9 فیصد تک گر چکا ہے اور شرحِ نمو 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ’امریکی شاید آمر کو پسند کرتے ہیں‘ صدر ٹرمپ کا متنازع بیان
کابینہ اجلاس میں توانائی، تعلیم اور بارڈر سیکیورٹی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں غیر قانونی سرحدی کراسنگ کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا جبکہ اربوں ڈالر کے اخراجات میں کمی ہوئی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وفاقی اختیارات ریاستوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی بیشتر ریاستیں تعلیمی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گی۔












