مراکش سے 165 ملین سال قدیم دفاعی ڈھانچے سے لیس ‘بکتر بند’ ڈائناسور دریافت

بدھ 27 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مراکش کے شہر بُولمان کے قریب سائنسدانوں نے دنیا کے قدیم ترین انکیلوسار ڈایناسور اسپیکومیلس اَیفر (Spicomellus afer) کے فوسلز دریافت کیے ہیں۔

یہ ڈایناسور تقریباً 4 میٹر لمبا اور دو ٹن وزنی تھا، جس کے جسم پر خار دار بکتر اور گردن کے گرد بڑے بڑے کانٹے تھے جبکہ اس کی دم پر ہتھیار نما ڈھانچہ موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا میں بچوں نے سیر کے دوران دیوہیکل جانور ٹی ریکس کے فوسل دریافت کرلیے

ماہرین کے مطابق یہ دریافت انکیلوسارز کی ارتقائی تاریخ کو چیلنج کرتی ہےکیونکہ دم کے ہتھیار جیسی خصوصیات پہلے سے سمجھے گئے وقت سے 3 کروڑ سال پہلے ہی موجود تھیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپیکومیلس کے کانٹے صرف دفاع کے لیے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر غلبہ یا ملاپ کی نمائش کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ فوسل کے کچھ حصے غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں 10 ہزار پاؤنڈ تک میں فروخت کیے گئے جس پر ماہرین نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف شمالی افریقہ کے قدیم ماحول اور حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ ڈایناسورز کے ارتقائی سفر پر بھی نئی روشنی ڈالے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

افغان طالبان کی پروپیگنڈا مہم جاری، شہری علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دینے لگے

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا