بی لنچ ٹانکہ، اسلم ٹانکہ ہو سکتا تھا

ہفتہ 30 اگست 2025
author image

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ابھی اسپتال کے راستے میں ہی تھے کہ کال آئی؛ ابھی ابھی ایمرجنسی میں مریضہ آئی ہے، ویجائنا سے خون کا اخراج بہت زیادہ ہے۔ سیزیرین 3 ہفتے پہلے ہوا تھا، جڑواں بچے تھے، ساتویں مہینے میں درد شروع ہوا تھا سو سیزیرین کرنا پڑا۔ دونوں بچے ابھی تک نرسری میں ہیں۔ وقت سے پہلے زچگی کے علاوہ سیزیرین میں کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی تھی۔

ہم خون روکنے کی کاک ٹیل استعمال کرچکے ہیں مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ ہمارے پوچھنے سے پہلے ہی ڈیوٹی ڈاکٹر نے بتایا۔

کیا ویجائنا کا معائنہ کیا؟ کوئی زخم؟ بچے دانی کے منہ پہ کوئی زخم؟ ہمارا سوال۔
جی دیکھنے کی کوشش تو کی تھی مگر بلیڈنگ بہت زیادہ ہے، مریضہ کا بلڈ پریشر بھی گر رہا ہے۔

ہم پہنچتے ہیں، آپ فوراً خون لگا کر آپریشن تھیٹر منتقل کریں۔

اجازت پہ آپریشن کا کیا نام لکھیں؟

‏EUA, Laparotomy and proceed.

تیزی سے گاڑی دوڑائی اور ہانپتے کانپتے آپریشن تھیٹر میں جا گھسے۔ مریضہ میز پہ لیٹی تھی۔ دونوں ہاتھوں میں خون کی بوتلیں لگی تھیں پھر بھی مریضہ کی رنگت اس قدر پیلی نیلی تھی کہ مردے کا گماں ہوتا تھا۔

ہم نے مریضہ کے اوپر پڑی چادر اٹھا کر دیکھا، ویجائنا سے خون تیزی سے نکل رہا تھا۔ پیٹ پہ ہاتھ رکھا تو ڈھیلی سی بچے دانی محسوس ہوئی۔

ہم پیٹ کھولنے جا رہے ہیں، بے ہوشی شروع کریں۔ ہم نے اعلان کیا۔

کیا آپ پہلے بچے دانی کی صفائی نہیں کریں گی جیسے پچھلی بار کیا تھا؟ ہماری کولیگ ڈاکٹر نے سوال کیا۔

اس سوال کا جواب آپریشن کے بعد دیاجائے گا، ہم نے کہا۔

پیٹ کھول کر جب بچے دانی کو ہم نے ہاتھ میں کیا تو ایسا لگا جیسے کوئی گلی سڑی باسی چیز ہو۔

ایک چھوٹاسا سوراخ بنا کر ہم نے بچے دانی کے اندرونی حصے کی صفائی کی اور پھر اس کے مختلف حصوں کو ٹانکے لگانے شروع کیے۔ یہ ٹانکے بچے دانی کی مدد کے لیے لگائے جاتے ہیں ۔

انیس سو ستانوے میں پروفیسر بی لنچ نے برٹش گائنی جرنل میں ان ٹانکوں کی تکنیک لکھی جن سے بیمار بچے دانی کو سکڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بچہ  پیدا ہونے کے کچھ دنوں بعد خارج ہونے والا خون سیکنڈری پی پی ایچ کہلاتا ہے اور یہ زیادہ تر انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بیمار بچے دانی نحیف و ضعیف ہو کر اپنے آپ کو سکیڑ نہیں سکتی اور یوں خون نہیں رکتا۔

میڈیکل سائنس نے ایسے دھاگے بنا لیے ہیں جنہیں اگر جسم کے اندر لگایا جائے تو کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پروفیسر حضرات مختلف بیماریوں کے متعلق تجربے کرتے رہتے ہیں اور جب کوئی تجربہ کافی مریضوں پہ کامیاب ہوتا نظر آئے تو اسے میڈیکل جرنل میں چھپوا دیتے ہیں۔
اپنی کسی بھی تحقیق کے متعلق لکھ کر سب سے پہلے چھپوانے کا انعام یہ ملتا ہے کہ وہ تحقیق یا دریافت ان پروفیسر کے نام ہو جاتی ہے۔ جیسے ان ٹانکوں کو اب دنیا بھر میں بی لنچ ٹانکہ پکارا جاتا ہے۔

ہمارے استاد پروفیسر اسلم کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اسی کی دہائی میں بہت سے مریضوں میں ان ٹانکوں کا تجربہ کیا مگر وطن عزیز میں ڈیٹا اکھٹا کرنا اور اسے بین الاقوامی طور پہ رپورٹ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ایک اور پروفیسر صاحب نے بی لنچ ٹانکے میں معمولی تبدیلی کے بعد اسے اپنے نام سے متعارف کروایا۔ اس ٹانکے کو ہے مین ٹانکہ کہا جاتا ہے۔ بی لنچ اور ہے مین دونوں ہمارے پسندیدہ ہیں اور ہم انہیں لگانے میں کبھی تاخیر سے کام نہیں لیتے۔ پی پی ایچ کا بہترین علاج وہی ہے جو فوراً کیا جائے۔

آپریشن ختم ہو گیا تھا مگر ہمارے جونئیر ہم سے پوچھنا چاہتے تھے کہ کچھ مہینے پہلے سیکنڈری ہی پی ایچ میں آنے والی مریضہ کی بچے دانی کی صفائی ہم نے ویجائنا کے راستے کی تھی اور پھر ہے مین ٹانکہ لگایا تھا۔ لیکن اس مریضہ کی صفائی ہم نے بچے دانی میں ایک چھوٹا سا سوراخ بنا کر کیا تھا۔ کیوں؟ ایک جیسے مریض، ایک جیسی بیماری، پھر علاج مختلف کیوں؟

اب وقت تھا کہ ہم ان کے تجسس کی آگ بجھاتے ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو پچھلی مریضہ کی نارمل ڈلیوری ہوئی تھی اور اس مریضہ کا سیزیرین جس کا زخم ابھی کچا ہے، یعنی اچھی طرح نہیں بھرا۔ ویجائنا کے راستے صفائی کرنے پہ اوزار بچے دانی میں داخل ہو کر سیزیرین کے زخم کو نقصان پہنا سکتا تھا، اور یہ بھی یاد رکھو کہ بچے دانی پہلے ہی کمزور حالت میں تھی۔ اس لیے ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

جس طرح درزی ہر کسی کا لباس اس کے جسم کے مطابق بناتا ہےگرچہ اس میں بنیادی کام ایک سا ہوتا ہے (تیرہ، کندھے، چاک، گلا)۔ بالکل اسی طرح ہر بیماری کے علاج کے بنیادی اصول یکساں ہیں مگر کس مریض میں کیا، کیسے؟ وہ مریض کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ جیسے بچے دانی کی صفائی بنیادی بات ہے مگر راستہ کونسا اختیار کیا جائے، اس کو مریضہ کی صحت کی صورتحال کے مطابق ہی چننا چاہیے۔

مریضہ کو 4 بوتلیں سرخ خون اور 4 ہی سفید خون کی چڑھائی گئی تھیں۔ مریضہ بہت بہتر تھی مگر ابھی کچھ اور کام تھا جو باقی تھا۔

وہ بتائیں گے ہم آپ کو آئندہ!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp