امریکا کی وفاقی اپیلز کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی اشیاء پر عائد بیشتر ٹیکسوں (ٹیرِفس) کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ ٹیرف ہٹائے تو امریکا مالی طور پر تباہ ہوجائے گا‘، ٹرمپ نےامریکی عدالت کا فیصلہ مستردکر دیا
11 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ’ان دیکھی مدت‘ کے لیے تقریباً تمام ممالک پر یکساں اور وسیع ٹیکس لگانے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ میں اپیل کا امکان
عدالت نے اپنے فیصلے پر فوری عمل درآمد روک دیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکا کی سپریم کورٹ میں اپیل کا موقع مل سکے۔
فیصلے کے مطابق، ٹرمپ کے حکم ناموں کے تحت عائد شدہ ٹیکس ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘ کے تحت جائز نہیں۔
ٹرمپ کا ردِعمل
فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشَل‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ’تمام ٹیکس بدستور نافذ العمل ہیں۔ یہ فیصلہ ایک جانبدار عدالت کا اقدام ہے، لیکن آخرکار امریکا ہی جیتے گا۔
یہ بھی پڑھیں:50 فیصد ٹرمپ ٹیرف نافذ سے ہونے سے پہلے ہی بھارتی کاروباری طبقہ بدترین بحران سے دوچار
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ٹیکس ختم کر دیے گئے تو یہ امریکا کو مالی طور پر کمزور‘ بنا دے گا۔
عدالتی مؤقف
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ کانگریس نے کئی برسوں میں ٹیکس شیڈولز بڑی باریکی سے ترتیب دیے ہیں، مگر ٹرمپ نے صدر کے اختیار کے نام پر ان سے انحراف کیا اور تقریباً ہر ملک پر بھاری شرح کے ٹیکس عائد کر دیے۔
اختلافی نوٹ
چار ججز نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدعی فریق ٹیکسوں کو غیر قانونی ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپریل 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ’یومِ آزادی‘کے موقع پر تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد سے 50 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارت کی اشیاء پر 50 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے جبکہ برازیل پر بھی اسی شرح سے محصول عائد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ 15 فیصد باہمی تجارتی ٹیکس طے پایا ہے۔ چین پر سب سے زیادہ یعنی 145 فیصد تک ٹیکس لگائے گئے تھے، تاہم بعد میں انہیں کم کرکے 30 فیصد تک محدود کردیا گیا۔