اٹلی کے آسمان پر شعلہ نما سرخ روشنی کے حیرت انگیز مناظر نے مقامی لوگوں اور سائنس دانوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔
یہ دلکش مظاہرہ، جسے ‘اسپرائٹس’ کہا جاتا ہے، اطالوی فوٹوگرافر جیاکومو وینتورین نے مونٹے ٹومبا کی چوٹی سے اپنی کیمرہ آنکھ میں قید کیا۔ ان کی تصاویر میں سرخ روشنی کے یہ پراسرار جھرمٹ سرحد پار آسٹریا کے آسمان پر جھلملاتے دکھائی دیتے ہیں جو تقریباً 300 کلومیٹر دور تھے۔
یہ بھی پڑھیے:شارک نارنجی کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے راز کھول دیا
ماہرین کے مطابق اسپرائٹس ایک نایاب فضائی مظہر ہیں جو شدید طوفانی بادلوں کے دوران بنتے ہیں۔ یہ روشنی دراصل بادل کے اوپر نمودار ہوتی ہے، جب زمین پر گرنے والی بجلی کا ایک طاقتور جھٹکا بادل کی بلند ترین سطح سے خلا کی طرف خارج ہوتا ہے۔
یہ خارج ہونے والی شعاعیں سرخ روشنی کے ستون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جنہیں عموماً ‘سرخ ستون’ کہا جاتا ہے۔ یہ روشنی اکثر گروپ کی شکل میں بھی نمودار ہوتی ہے۔
جیاکومو وینتورین نے بتایا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بادل کے نچلے حصے سے بجلی نکلتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اوپر سے کیا نکلتا ہے؟ اس کا جواب ہے اسپرائٹس۔
یہ غیر معمولی منظر فضا میں رقص کرتی روشنیوں کی ایسی جھلک پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔














