کراچی کی انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگرکیخلاف سرکاری ملازمین پرتشدد اور دھمکانےکےکیس کی سماعت ہوئی، تفتیشی افسر محمد وسیم اور فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر ملزمان آگئے ہیں، میری گزارش ہے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ختم کرنے کی درخواست منظور کی جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اے ٹی اے کی دفعہ ہٹانی تھی تو لگائی ہی کیوں، اے ٹی اے نہیں لگاتے سیدھا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کی رہائی، مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ گزارش ہے کہ مجسٹریٹ کو آرڈر کیا جائے تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست پر قانون کے مطابق حکم نامہ جاری کریں گے، وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ میرے موکل کو عمرے کی ادائیگی کے لیے جانا ہے۔
عدالت نے فرحان غنی سے استفسار کیا کہ آپ کو کب عمرے پر جانا ہے اور کب واپس آئیں گے، فرحان غنی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کل صبح روانہ ہوںا ہے اور 19 ستمبر کی واپسی ہے، عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹکٹ کنفرم ہیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ تو پھر آئندہ سماعت 20 ستمبر کو رکھ لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کسی کو نہیں مارا مجھ پر جھوٹا الزام لگایا گیا، فرحان غنی کا عدالت میں بیان
فرحان غنی نے عدالت سے 22 ستمبر بروز کو سماعت درخواست کی، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ چلیں ٹھیک ہے، پیر کو رکھ لیتے ہیں، اس موقع پرایک بار پھر وکیل صفائی نے عدالت سے آئندہ سماعت پر فرحان غنی کو استثنیٰ کی استدعا کی۔
عدالت نے وکیل صفائی کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر پولیس رپورٹس پر فیصلہ کریں گے، عدالت نے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔












