چناب اور راوی پھر بے قابو، تاریخی شہر ملتان زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا

جمعرات 4 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ دریائے چناب شیر شاہ کے مقام پر انتہائی خطرے کے لیول سے اوپر جا چکا ہے جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے شدید دباؤ سے نہروں میں شگاف پڑ رہے ہیں اور کئی بستیاں زیرِ آب آچکی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیڈ سدھنائی سے آنے والے پانی کے دباؤ سے ملتان میں سدھنائی کینال میں بڑا شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں بستی کھوکھراں سمیت وسیع آبادی متاثر ہوئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کینال میں گنجائش سے چار گنا زیادہ پانی داخل ہو چکا ہے اور شگاف کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

نہروں میں شگاف، بستیاں زیرِ آب

دریائے راوی کے اوور فلو ہونے سے رابطہ نہروں میں پانی داخل ہوا جس کے نتیجے میں رانگو نہر کے 2 مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ اس سے درجنوں آبادیاں ڈوب گئیں۔ جبکہ سدھنائی لنک کینال پر ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دریائے چناب و ستلج میں بلند ترین سیلاب، لاکھوں افراد متاثر، حکومت کا بڑے ریلیف آپریشن کا دعویٰ

محکمہ انہار کے مطابق دریائے چناب کا سیلابی ریلا ملتان کی حدود میں دباؤ بڑھا رہا ہے، خصوصاً اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 414 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔

ہنگامی اقدامات اور خطرے کی سطح

محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ شیر شاہ کے مقام پر پانی کا گیج 394 فٹ تک جا پہنچا ہے اور اگر یہ سطح 395 فٹ تک بڑھی تو پل کے اوپر سے پانی گزرنے لگے گا۔

کمشنر ملتان کے مطابق ہیڈ محمد والا پر زیادہ سے زیادہ حد 417 فٹ ہے، جہاں ضرورت پڑنے پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ ٹیکنیکل کمیٹی کرے گی۔ اس دوران فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرہ افراد کی آمد جاری ہے۔

ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب

دریائے ستلج میں بھی خطرناک صورتحال برقرار ہے۔ ہیڈ اسلام پر درمیانے جبکہ جملیرا پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق بورے والا اور میلسی کے نشیبی علاقوں سے 95 فیصد انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا انتباہ

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے نجی چینل سے گفتگو میں کہا کہ صوبے کے تینوں دریاؤں میں سیلاب کے باعث تقریباً 13 لاکھ ایکڑ رقبہ زیرِ آب ہے اور چار ہزار سے زائد دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم ملتان کے لیے اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp