بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور کے بچوں، سمایرا اور کیان راج نے اپنے مرحوم والد سنجے کپور کی مبینہ وصیت کو دہلی ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ سوتیلی ماں، پریا سچ دیو کپور نے مرحوم کی ایک ایسی وصیت پیش کی جو اُنہیں جائیداد کے حق سے محروم کرتی ہے، اس جائیداد کا تخمینہ تقریباً ’30 ہزار کروڑ‘ روپے لگایا جارہا ہے۔
پس منظرسنجے کپور کا انتقال
سنجے کپور، جو سونا کامسٹار (Sona Comstar) کے سربراہ تھے، بانی کمپنی کے غیر فعال چیئرمین کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اُن کا انتقال 12 جون 2025 کو ونڈزر، برطانوی کول میں ایک پولو میچ کے دوران ہوا، کمپنی کی طرف سے بھی اُن کے انتقال کی تصدیق جاری کی گئی ہے۔
کیا مانگا گیا ہے اور کس بنیاد پر؟
درخواست میں سمایرا اور کیان نے اس وصیت کو ’جعلی اور بدعنوانی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے درخوست کی ہے کہ انہیں مرحوم کے ذاتی اثاثوں میں بطور کلاس1 قانونی وارث تسلیم کیا جائے اور ہر ایک کو ایک 5واں حصہ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ابھیشیک بچن اور کرشمہ کپور کی منگنی کیوں ٹوٹی تھی؟ وجہ سامنے آگئی
علاوہ ازیں بچوں نے عبوری طور پر مرحوم کے ذاتی اثاثے فریز کرنے کی بھی استدعا کی ہے جب تک معاملہ عدالت میں حل نہیں ہوتا۔ مقدمہ میں پریا کپور، سنجے کی والدہ رانی کپور، اور وصیت کے مبینہ ایگزیکیوٹر کو مدعا بنایا گیا ہے۔
وصیت کے خلاف الزامات اور پریا کا مؤقف
درخواست گزار بچوں کا موقف ہے کہ وصیت میں اُنہیں مکمل طور پر خارج کر دیا گیا جبکہ وصیت مبینہ طور پر پریا کو تمام ذاتی اثاثوں کا کنٹرول دیتی ہے، اسی بنیاد پر وہ وصیت کو جعلی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری طرف پریا کے وکلا نے کہا ہے کہ کرشمہ اور بچوں کو طے شدہ سمجھوتوں کے تحت پہلے ہی بعض اثاثے دیے گئے ہیں اور عدالت سے اثاثوں کی مکمل تفصیل طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
کرشمہ کپور کا مالی پس منظر اور سابقہ طلاقی سمجھوتہ
بھارتی میڈیا کے مطابق کرشمہ کپور کی ذاتی کل دولت کا اندازہ تقریباً Rs 120 کروڑ لگایا جاتا ہے۔ اُن اور سنجے کپور کے طلاقی سمجھوتے کے دوران کرشمہ کو مبینہ طور پر Rs 70 کروڑ بطور سیٹلمنٹ ملے جبکہ بچوں کے نام پر Rs 14 کروڑ کے بانڈز بھی رکھے گئے تھے جن سے ماہانہ یا سالانہ معمولی آمدنی یقینی بنائی گئی تھی، یہ تفصیلات مختلف رپورٹس میں بتائی گئی ہیں۔
قانونی تناظر میں بچے بطور وارث کس حد تک حقوق رکھتے ہیں؟
ماہرینِ قانون کے بقول ہندو سکو سیشن ایکٹ، 1956 کے تحت بچے طلاق کے بعد بھی اپنے والد کے Class I وارث تسلیم کیے جاتے ہیں اور انھیں وصیت یا وصیت نامے سے مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا، سو اگر وصیت واقعی خدشات پیدا کرتی ہے تو عدالت اسے معمہ سمجھ کر جانچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’عالیہ بھٹ میری پہلی بیوی نہیں ہے‘ ، رنبیر کپور کا انکشاف
عدالت میں اہم سوالات یہ ہوں گے کہ وصیت کب اور کن حالات میں بنائی گئی، کیا اس میں کوئی جبر یا جعل کاری ہوئی اور ذاتی اثاثوں اور ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام اثاثوں میں فرق کیا ہے۔
اگلا مرحلہ اور عدالتی ہدایات
عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران فریقین سے اثاثوں کی تفصیلی فہرست پیش کرنے کا کہا ہے اور ممکنہ عبوری حدود (جیسے اثاثے فریز کرنا) پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ کیس کی سماعت جاری ہے اور عدالت کے آئندہ فیصلے سے اس تنازع کا رخ واضح ہوگا۔













