سینیٹ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے دیت کی کم از کم رقم بڑھانے کا بل منظور کرلیا ہے
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت دیت کی کم از کم مالیت 30 ہزار 663 گرام چاندی سے بڑھا کر 45 ہزار گرام مقرر کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں بڑھانے کا معاملہ، سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی
کمیٹی کی صدارت سینیٹر فاروق حمید نائیک نے کی، ان کا کہنا تھا کہ دیت کی رقم میں اضافہ ناگزیر تھا تاکہ انسانی جان کی حرمت کو اجاگر کیا جاسکے، ورثا کو منصفانہ معاوضہ ملے اور معاشرے میں مؤثر انصاف قائم ہو۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے وضاحت کی کہ یہ ترمیم اسلامی احکامات کے مطابق ہے اور شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ تاہم سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بوجھ کمزور مالی حیثیت رکھنے والے مجرمان پر زیادہ پڑے گا۔
اجلاس میں خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق ایک اور اہم قانون سازی بھی منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے ایلون مسک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیوں کیا؟
فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2024 کے مطابق طلاق یافتہ خواتین اور ان کے بچوں کا نان نفقہ پہلے ہی روز مقرر کیا جائے گا، اور اگر مدعا علیہ ہر ماہ 14 تاریخ تک ادائیگی نہ کرے تو اس کا دفاع ختم کر دیا جائے گا اور کیس دعویٰ اور ثبوت کی بنیاد پر یکطرفہ فیصلے کے ساتھ نمٹایا جائے گا۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان میں طلاق کے مقدمات کئی سالوں تک چلتے رہتے ہیں جس سے خواتین اور بچوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ یہ ترمیم فوری ریلیف فراہم کرے گی اور کمزور طبقات کی عزت و وقار کو یقینی بنائے گی۔
دوسری جانب، آئین (ترمیمی) بل 2025، جس کا مقصد آرٹیکل 27 میں تبدیلی تھا، سینیٹر محمد عبدالقادر نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے اور آئین میں موجود شق کے باعث واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا اسپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر اظہار تشویش، سائبر فراڈز پر فوری اصلاحات کا مطالبہ
اجلاس میں سینیٹر شاہادت اعوان، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری سمیت متعلقہ حکومتی محکموں کے حکام نے شرکت کی۔













