بلوچستان، ستمبر میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ، حکومت امن قائم کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

ہفتہ 20 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ صرف ستمبر کے مہینے میں دہشت گردی کے 9 واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 32 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوئے۔

یہ واقعات صوبے کے مختلف شہروں اور اضلاع میں رونما ہوئے جن میں سیاسی جلسے، سیکیورٹی فورسز اور عام شہری براہِ راست نشانہ بنے۔

یہ بھی پڑھیے: ’ 4 فٹ کے فاصلے پر موت کھڑی تھی‘، سریاب روڈ دھماکے میں بچ جانے والوں پر کیا گزری؟

ستمبر کا پہلا اور سب سے بڑا واقعہ 2 تاریخ کو کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ہوا جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے جلسے کے دوران شاہوانی اسٹیڈیم کے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکا کیا گیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 28 زخمی ہوئے۔

5 ستمبر کو ضلع کیچ کے علاقے مند میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں 2 اہلکار شہید ہوئے۔ 15 ستمبر کو تربت میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار جان سے گئے۔

17 ستمبر کو ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے 2 دھماکے ہوئے جن میں 3 شہری جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔ اسی دن ضلع ژوب کے علاقے شیرانی میں مسلح افراد نے پولیس اور لیویز تھانوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، 2 لیویز اہلکار زخمی ہوئے اور ایک اہلکار کو اغوا کر کے ساتھ لے جایا گیا۔ 18 ستمبر کو تربت میں قومی شاہراہ کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی دھماکے کی زد میں آئی جس سے 8 اہلکار زخمی ہوئے۔

اسی روز پاک افغان سرحدی شہر چمن میں ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب بم دھماکا ہوا جس میں 6 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے تسلسل کے بعد 19 ستمبر کو خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا شکیل کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ کیا گیا جس میں 6 افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: چمن میں دھماکا: 5 افراد جاں بحق، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی مذمت

ان بڑھتے ہوئے واقعات پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘دہشت گردی مذہب یا قومیت کے نام پر ہو، عوامی حقوق اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ بلوچستان کے عوام دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور کسی صورت سرنڈر نہیں کیا جائے گا۔ قوم پرستی یا مذہب کے نام پر بندوق اٹھانے والے دراصل ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔’

دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی نے حال ہی میں انسداد دہشت گردی اور فرانزک سائنس کا ترمیمی بل منظور کیا ہے۔ اس بل کے تحت عدالتوں میں ویڈیو لنک، آواز بدلنے، خفیہ شناخت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مقدمات چلائے جائیں گے تاکہ ججوں، وکلا اور گواہوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی مشاورت سے ایک اتھارٹی قائم ہوگی جو ان مقدمات کی نگرانی کرے گی۔

اس دوران سیکیورٹی ادارے بھی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں اور مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حساس علاقوں میں موبائل فون سروسز بھی معطل کی گئی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے رابطے منقطع کیے جا سکیں تاہم اس فیصلے سے عام شہریوں کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ نئی قانون سازی اور سخت سیکیورٹی اقدامات حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کی مسلسل کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف عسکری یا قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہے۔ قوانین اور موبائل سگنل کی معطلی وقتی اقدامات ہیں مگر پائیدار امن کے لیے عوامی اعتماد، سیاسی ہم آہنگی اور ترقیاتی منصوبے ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان: لیویز اور پولیس تھانوں پر دہشتگردوں کا حملہ، ایک اہلکار شہید، 2 زخمی

بلوچستان کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ریاست طاقت اور قانون کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائے جو نوجوانوں کو دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے دور رکھ سکے اور انہیں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ بصورت دیگر یہ پرتشدد سلسلہ کسی نئے رخ کے ساتھ دوبارہ جنم لیتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان