امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے کیریبین سمندر میں چوتھا مہلک فضائی حملہ کیا ہے، یہ حملہ مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی ایک کشتی پر کیا گیا۔
ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جمعے کو ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دکھایا گیا کہ وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک تیز رفتار کشتی پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد کشتی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ
وزیر دفاع نے کہا کہ اس کارروائی کی براہِ راست ہدایت انہوں نے دی تھی۔ ان کے مطابق کشتی پر سوار 4 افراد، جنہیں انہوں نے ‘نارکو دہشت گرد’ قرار دیا، ہلاک ہوگئے جبکہ امریکی افواج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ کشتی بین الاقوامی پانیوں میں وینزویلا کے قریب سفر کر رہی تھی اور امریکا میں منشیات پہنچانے کی کوشش میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی عوام پر منشیات کے حملے ختم نہیں ہو جاتے۔

یہ تازہ حملہ پچھلے ماہ کیے گئے 3 فضائی حملوں کے بعد ہوا ہے۔ پہلا حملہ 2 ستمبر کو ہوا تھا جس میں 11 افراد مارے گئے تھے۔ دوسرا اور تیسرا حملہ بالترتیب 15 اور 19 ستمبر کو کیا گیا جن میں 3، 3 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کارروائی کی توثیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشتی اتنی منشیات سے بھری ہوئی تھی جو 25 سے 50 ہزار افراد کو ہلاک کرنے کے لیے کافی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے بحری جہاز تعینات کردیے
تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ منشیات اسمگلنگ کو روایتی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر میں مسلح حملہ تصور نہیں کیا جاتا۔
ان فضائی حملوں کے بعد وینزویلا کی حکومت نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور امریکی اقدامات کو غیر اخلاقی فوجی دھمکی قرار دیتے ہوئے ساحلی علاقوں میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔












