گزشتہ جمعے بہار کے ضلع روہتاس میں ہونے والی طوفانی بارش کے بعد نیشنل ہائی وے 19 پر بنائے گئے عارضی راستے اور سروس لینیں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے دہلی-کولکتہ ہائی وے پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اور نیپال میں طوفانی بارشوں سے تباہی، 60 سے زیادہ ہلاکتیں
سینکڑوں گاڑیاں 4 دن سے ایک لمبی قطار میں پھنسی ہوئی ہیں، اور کہیں سے بھی ٹریفک کے بحال ہونے کی امید نظر نہیں آ رہی۔ سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے بن گئے ہیں اور پانی جمع ہونے سے گاڑیاں پھسل رہی ہیں، جس سے جام مزید بڑھتا جا رہا ہے۔

چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کئی کئی گھنٹے لگ رہے ہیں، جبکہ ٹریفک کا دباؤ بڑھتے بڑھتے اب اورنگ آباد تک پہنچ گیا ہے جو روہتاس سے تقریباً 65 کلومیٹر دور ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی انتظامیہ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) اور سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کی جانب سے کوئی عملی قدم نظر نہیں آ رہا۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ گاڑیاں 24 گھنٹے میں بمشکل 5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر پا رہی ہیں۔

ایک ٹرک ڈرائیور پروین سنگھ نے بتایا کہ پچھلے 30 گھنٹوں میں ہم نے صرف 7 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ ٹول ٹیکس اور دیگر اخراجات دینے کے باوجود ہم گھنٹوں جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نہ NHAI کے اہلکار نظر آتے ہیں، نہ انتظامیہ۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سکھ مذہبی آزادی سے محروم، مودی سرکار نے گرو نانک کے جنم دن پر یاترا روک دی
ایک اور ڈرائیور سنجے سنگھ کے مطابق 2 دن سے جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بھوکے پیاسے ہیں اور بہت تکلیف میں۔ چند کلومیٹر طے کرنے میں گھنٹوں لگ رہے ہیں۔

اس ٹریفک جام سے کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ ڈرائیور جو خراب ہونے والی اشیا لے جا رہے تھے۔ پیدل چلنے والے، ایمبولینسیں، ایمرجنسی سروسز اور سیاحتی گاڑیاں بھی بری طرح متاثر ہیں۔
جب NHAI کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رنجیت ورما سے اس صورتحال پر بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کیمرے پر آنے سے صاف انکار کر دیا۔












