پاکستان اور سعودی عرب کی اٹوٹ دوستی کی علامت فیصل مسجد

اتوار 12 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے دامن میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے سائے تلے ایک ایسی عمارت ایستادہ ہے جو ایمان، فنِ تعمیر اور دوستی تینوں کی خوبصورت ترجمان ہے۔

یہ ہے فیصل مسجد، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اٹوٹ رشتے کی روشن علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مارگلہ کے دامن میں واقع فیصل مسجد کے بارے میں دلچسپ حقائق

1976 میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اس مسجد کے قیام کے لیے فنڈ فراہم کیے، اسی محبت اور تعاون کی یاد میں اس کا نام فیصل مسجد رکھا گیا۔

اسی سال اکتوبر 1976 میں اس مسجد کے سنگِ بنیاد کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی اور سعودی حکام نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔

ترکیہ کے معروف معمار ودات دلوقای نے اس کا ڈیزائن تیار کیا، جو کسی روایتی گنبد پر مبنی نہیں بلکہ صحرائی خیمے سے متاثر ہے۔ یہ خیمہ دراصل اسلامی سادگی، وقار اور یکجہتی کی علامت ہے۔

مسجد کی عمارت قریباً 10 سال میں مکمل ہوئی، اور 1986 میں اس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے۔ آج فیصل مسجد صرف پاکستان کی قومی مسجد نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان روحانی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات کی ایک زندہ یادگار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وقت کی دھول میں گم ہوتی فیصل آباد کی اولین جامع مسجد اور دارالعلوم

فیصل مسجد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوستی صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ ایمان، فن اور احساسِ امت میں پروئی ہوئی ایک حقیقت ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امیگرنٹ ویزوں کی معطلی ایک متنازع چارٹ پر مبنی، امریکی ماہر خارجہ امور کا انکشاف

سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

ورلڈ کپ سے پہلے ہی شائقین کا طوفان، فیفا کو ٹکٹوں کی تاریخ ساز ڈیمانڈ کا سامنا

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘