سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب، اب کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائےگا، ایوان میں پہلا خطاب

پیر 13 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی 90 ووٹ لے کر خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ اپوزیشن نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا۔

نومنتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ میں اب کسی جنگ میں نہیں بلکہ عشقِ عمران میں مارا جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ کے انتخاب میں باہر سے کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے، نامزد اُمیدوار سہیل آفریدی

انہوں نے کہا کہ میں اپنے قائد عمران خان کا انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے مجھ جیسے ادنیٰ اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ورکر کو موقع دیا، میرے نام کے ساتھ بھٹو، زرداری یا شریف نہیں، اپنے بازو سے یہاں پہنچا، پرچی لے کر وزیراعلیٰ نہیں بنا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں، قبائلی ہونے پر فخر ہے، میری نامزدگی ہوئی تو میرے قبائلی ہونے کی وجہ سے میری تضحیک کی گئی، ذہن بنا ہے کہ قبائل ہمیشہ مرنے کے لیے ہیں، میرے قائد عمران خان کو قبائلیوں کی حالت کا احساس تھا، ان کے اس فیصلے پر قبائل خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز کسی مسئلے کا حل نہیں، عمران خان آپریشن کے خلاف ہیں، ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائے گا، آج تک فیصلے بند کمروں میں ہوئے اس لیے حالات ٹھیک نہیں، حالات میں بہتری کے لیے مشران کو اعتماد میں لینا ہوگا اور افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی، عمران خان کے دور میں افغانستان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں رہا، افغانوں کو 40 سال بعد دھکے دے کر نکال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں، کھونے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں، اس لیے عمران خان کی رہائی کے لیے آج سے ہی کوششیں شروع کریں گے، ہماری مشاورت کے بغیر عمران خان کو جیل سے کہیں منتقل کیا تو پورا پاکستان جام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست عوام ہے اور عوام ہی ریاست ہے، عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے عمران خان ہی ریاست ہیں۔ جو ادارے اپنے آپ کو ریاست سمجھتے ہیں ان کا کام سیاسی پریس کانفرنس کرنا نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت ہے، پی ٹی آئی کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے ایک شخص اسلام آباد اور راولپنڈی سے پشاور آکر پریس کانفرنس کی، وہ اپنے حق میں اتنی صفائی دیتا ہے، اسے کہو ہمیں سب دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کی سہولتکاری کے لیے لایا گیا، وزیراطلاعات عطا تارڑ

سہیل آفریدی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ دینے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی 90 ووٹ لیکر نئے قائد ایوان منتخب، اپوزیشن کا واک آؤٹ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں سیاسی ہلچل کے بعد تحریک انصاف کے امیدوار سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے قائدِ ایوان منتخب ہوئے۔

انتخاب کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں شور شرابے اور ’چور چور‘ کے نعروں کے باوجود اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اعلان کیا کہ انتخاب آئینی طریقے سے مکمل ہوا۔

اسپیکر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دیا اور فلور پر تصدیق بھی کی، نیا انتخاب قانون کے مطابق ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، اس دوران اپوزیشن نے بائیکاٹ اور واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا، ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرا منتخب نہیں ہو سکتا۔

شور شرابے کے دوران اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ نعروں سے وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں ہوگا، کارروائی روکنے پر مجبور نہ کرو۔

اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ علی امین نے استعفیٰ دیا اور فلور پر تصدیق بھی کی، انتخاب آئینی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی قوتیں سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔

ایوان میں ’چور چور‘ کے نعروں کے دوران اپوزیشن واک آؤٹ کر گئی، تاہم اسپیکر نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب آج ہر حال میں ہوگا۔

اِس ملک میں چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی pic.twitter.com/dVTQ0bXoOz

’علی امین نے استعفیٰ دیا، تصدیق کر دی، انتخاب آئینی ہے‘، اسپیکر کی رولنگ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ’چور چور‘ کے نعروں سے ہال گونج اٹھا۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے موقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوا، گورنر نے اسے واپس کر دیا ہے، لہٰذا ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرا وزیراعلیٰ منتخب کرنا غیر آئینی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کسی بھی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنے گی۔

ان کی تقریر کے دوران ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پی ٹی آئی کارکنوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے نعروں سے وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں ہوگا۔ مجھے مجبور نہ کریں کہ اسمبلی کارروائی روک کر آپ لوگوں کو باہر نکال دوں۔

اسپیکر نے واضح رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنا استعفیٰ دیا، اسمبلی فلور پر اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ آئینی ہے۔ میں رولنگ دے رہا ہوں۔

’ہماری پارٹی، ہماری مرضی‘ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ کی تصدیق کر دی

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنے استعفے کی تصدیق کر دی اور کہا کہ ہماری پارٹی، ہماری حکومت اور ہماری مرضی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور پارٹی کے فیصلے کے مطابق عمل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حکم پر اسی دن استعفیٰ دے دیا تھا، جمہوریت کے ساتھ مذاق نہیں ہونا چاہیے۔ وزیرِاعلیٰ نے اپیل کی کہ اس عمل میں تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ بطور وزیراعلیٰ جو کچھ بھی کیا وہ ریکارڈ پر ہے اور حکومت کے دور میں خزانے کی حالت بہتر ہوئی، جب وہ آئے تو خزانہ خالی تھا، مگر آج 280 ارب روپے خزانے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لیا جائے: اسپیکر کے پی اسمبلی کی گورنر کو سفارش

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد پارٹی اور عمران خان کے لیے ہے کیونکہ اُن کے نزدیک عمران خان اس قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اب ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ پاکستان کے لیے ذات سے بالاتر ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp