سعودی انٹرنیشنل باز و شکار میلہ 2025 ریاض کے شمالی علاقے (ملہم) میں شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، جہاں 10 دنوں کے دوران 7 لاکھ سے زیادہ زائرین نے شرکت کی، جو اس میلے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
میلے میں 47 ممالک سے 1400 سے زیادہ نمائش کنندگان اور عالمی برانڈز نے حصہ لیا اور 28 شعبوں میں متنوع تجربات، مصنوعات اور ثقافتی ورثے کی جھلکیاں پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ: وژن 2030 کے تحت بہترین اقدامات، زائرین کے قیام کے دورانیے میں دوگنا اضافہ
سعودی فالکن کلب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) طلال بن عبدالعزیز الشمیسی نے مملکت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ میلہ اب محض ایک سالانہ تقریب نہیں رہا، بلکہ ایک عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے جو سعودی ثقافت، معیشت اور سیاحت کے پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس ایونٹ نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فالکنری، شکار اور صحرا کی روایتی مشغولیات کے شوقین افراد کو ایک مقام پر جمع کردیا۔
اس سال کے میلے میں منگولیائی اور مقامی بازوں کی نیلامی ہوئی، جس کی مجموعی فروخت 7 ملین ریال تک پہنچی، اس کے علاوہ اونٹوں کی نیلامی بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔
علاوہ ازیں منگولیائی فالکن ایریا، چائنیز پویلین، سالوکی میوزیم، نجران ورثہ زون، سفاری ایریا، صقار گاؤں اور فالکنری فیشن ایریا جیسی نئی سرگرمیوں نے شرکا کو منفرد تجربہ فراہم کیا۔
میلے میں 23 ثقافتی و تفریحی سرگرمیاں شامل تھیں، جن میں سعودی عرضہ رقص، فالکن اور گھوڑوں کے مظاہرے، شوٹنگ مقابلے، اونٹ سواری، مصوری و دستکاری ورکشاپس اور ملواح ریس شامل تھی جس میں 60 فاتحین نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں بین الاقوامی باز اور شکار کی نمائش 2025 کا آغاز، 45 ملکوں کے 1300 سے زائد نمائندوں کی شرکت
یہ ایونٹ شاہ سلمان رائل ریزرو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسٹریٹیجک سرپرستی میں منعقد ہوا، جو مملکت کے ثقافتی ورثے کے ایونٹس کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔














