مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ میں اسمارٹ ہوں، میں کسی بھی آن لائن فراڈ میں نہیں پھنس سکتا۔ شاید اس لیے کہ میں نے ہمیشہ دوسروں کے قصے سنے، ان سے سبق لیا، یا شاید اس لیے کہ میں پڑھا لکھا تھا، ڈیجیٹل دنیا کی چالاکیوں کو پہچاننے کا ہنر رکھتا تھا۔
لیکن زندگی کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان کسی اور اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہوتا ہے، اور ایک لمحے کی بھول بڑی غلطی بن سکتی ہے۔
مجھے ایک دن سری لنکا میں مقیم اپنی دوست ڈارا کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا۔ معمول کی سلام دعا کے بعد اُس نے مجھ سے ایک فیور مانگی۔ اس کے مطابق وہ کراچی میں اپنے ایک دوست کو 50 ہزار روپے ٹرانسفر کرنا چاہتی تھی، مگر کسی تکنیکی وجہ سے نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس کے لیے یہ رقم سادہ پے کے ایک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دوں۔
ڈارا مجھ سے جھوٹ نہیں کہہ سکتی، یہ خیال میرے ذہن میں فوراً آیا۔ شاید میں اس وقت تھکا ہوا تھا، شاید مصروف۔ بہرحال میں نے بنا زیادہ سوچے سمجھے حامی بھر لی۔ پہلی ٹرانزیکشن کی کوشش بھی کی، مگر خوش قسمتی سے وہ مکمل نہ ہو سکی۔ اکاؤنٹ مشکوک سمجھ کر سسٹم نے بلاک کر دیا تھا۔
میں نے فوراً ڈارا کو بتایا کہ کوئی ٹیکنیکل مسئلہ ہے۔ ابھی تک مجھے احساس نہیں ہوا تھا کہ یہ سب ایک فراڈ تھا۔ اگلے ہی لمحے جب میں نے فیس بک کھولی تو ڈارا کی پوسٹ دیکھی:
’میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے، براہِ کرم کوئی بھی پیغام یا درخواست نظرانداز کریں‘۔ ایک لمحے کو میں سکتے میں آگیا۔ میں پہلی بار کسی فراڈئیے کے جال سے بال بال بچا تھا۔
اس دن کے بعد سے میں نے خود سے عہد کیا کہ اگر میرے قریبی دوست بھی کبھی مجھ سے واٹس ایپ یا فیس بک پر پیسے مانگیں تو میں پہلے فون کرکے تصدیق کروں گا۔ میں نے اپنے دوستوں کو بھی یہی کہا: ’اگر کبھی تمہیں میری طرف سے رقم مانگنے کا پیغام آئے تو فوراً مجھے کال کرو، بغیر تصدیق ایک پائی بھی مت بھیجنا‘۔
واٹس ایپ ہیکنگ نیا ہتھیار، نیت پرانی
واٹس ایپ ہیک ہونے کے واقعات اب تسلسل سے بڑھ رہے ہیں۔ جعلساز اب براہِ راست اسکیموں جیسے کہ آپ کو بے نظیر انکم سپورٹ کے 25 ہزار ملے ہیں‘ یا ’موبی لنک کی قرعہ اندازی میں آپ کا نام نکلا ہے‘، سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اب وہ آپ کے کسی دوست کا اکاؤنٹ ہیک کرتے ہیں، اور پھر اُسی کی زبان میں، اُسی انداز میں، آپ سے رابطہ کرتے ہیں۔
پکڑنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی
آسان یوں کہ اکثر جعلساز کا لہجہ یا زبان آپ کے دوست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ پیغام مختصر، گرامر سے عاری یا غیر معمولی عجلت بھرا ہوتا ہے۔
اور مشکل اس لیے کہ بعض اوقات وہ صرف چند ہزار روپے مانگتے ہیں، اتنی معمولی رقم کہ سامنے والا شک ہی نہ کرے۔
میری ایک صحافی دوست کا اکاؤنٹ حال ہی میں ہیک ہوا۔ اچانک اس کے نمبر سے پیغام آیا:
’آج کل کہاں ہو؟‘
میں نے جواب دیا، ’کراچی میں، کام چل رہا ہے‘۔
اگلے ہی لمحے پیسے مانگنے کا پیغام آیا۔ میں نے فوراً کال کی۔ دوسری طرف سے آواز آئی:
’میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے، براہِ کرم کسی کو کچھ مت بھیجنا‘۔
ان جعلسازوں کا نظام منظم ہے۔
یہ لوگ دن کے مخصوص اوقات میں بیٹھ کر ’شکار‘ تلاش کرتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی نوکری کرتے ہیں، ویسے ہی ان کا کام فراڈ کرنا ہے۔ ان کے پاس باقاعدہ ٹیمز، اسکرپٹس، اور چالاک طریقے ہوتے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کو پیغام بھیجتے ہیں جو جال میں آ سکتا ہو۔
بچاؤ کے آسان طریقے
میٹا اور سائبر سیکیورٹی ماہرین ایک ہی مشورہ دیتے ہیں: تصدیق کے بغیر کوئی پیغام یا لنک مت کھولیں۔
احتیاط کے چند آسان اصول:
واٹس ایپ میں Two-step verification لازمی آن کریں۔
کسی دوست یا رشتہ دار کی مالی درخواست پر ہمیشہ کال کر کے تصدیق کریں۔
مشکوک لنکس، QRکوڈز یا انعامی میسجز پر کلک نہ کریں۔
پاس ورڈز منفرد رکھیں، اور سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات کم شیئر کریں۔
ڈیجیٹل دنیا میں سب کچھ تیز ہے۔ بات چیت، خبریں، اعتماد، اور بدقسمتی سے فراڈ بھی۔
ایک لمحے کی بے دھیانی، ایک کلک، اور آپ کا ڈیٹا، پیسہ، حتیٰ کہ اعتماد سب خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یاد رکھیے ! اس ڈیجیٹل دور میں ’اعتماد‘ سب سے بڑی کرنسی ہے اور ایک لمحے کی بھول، سب کچھ چھین سکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













