پشاور کے سابق کور کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ ہماری افغان پالیسی درست نہیں ہے لیکن جتنی صاف اور واضح آج کل پاکستان کی افغان پالیسی ہے اتنی کبھی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے کہ افغانستان کی قیادت بھارت کی چال میں نہیں آئے گی، احسن اقبال
اے آر وائی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات نے کہا کہ افغانستان پراکسیز کا پلے گراؤنڈ رہا ہے لیکن اس کو چاہیے کہ وہ پراکسی والا کام ختم کردے۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات نے کہا کہ پہلے افغانستان کا سینٹر آف گریویٹی کابل ہوتا تھا لیکن اب قندھار اور پکتیکا بھی ہیں کیوں کہ مختلف گروہ مضبوط ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے اور باڑھ بھی لگائی گئی اور طالبان رجیم سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے مقصد میں استعمال نہ ہونے دے۔
مزید پڑھیے: افغانستان نے پاکستان سے تنازع بطور پراکسی بھارت کے اشارے پر شروع کیا، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پراسس تھا جس کو بتدریج آگے بڑھنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات کے مطابق اس وقت کہا جا رہا تھا کہ افغانستان کا کنٹرول پاکستان کے پاس ہے اور آپ سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن آج یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسا کچھ نہیں تھا ہمارا افغانستان پر کنٹرول نہیں تھا جو ہم اس وقت بھی کہتے تھے لیکن کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور فیٹف کی تلوار بھی لٹک رہی تھی۔
مزید پڑھیں: پیرول پر رہا کریں، افغانستان کا مسئلہ حل کر دوں گا، عمران خان کی پیشکش
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں ٹی ٹی پی کا بھی حل نکالنا چاہیے تھا۔ اس معاہدے کو پبلک نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کو بھی آؤٹ رکھا گیا۔
پاکستان پورے دوحہ معاہدے کو سہولت کاری کے ذریعے آگے ضرور لے کر گیا اور سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کے 2 مقاصد تھے ایک امن ہو تو پاکستان کے لیے بہتر ہوجائے اور دوسرا افغانستان میں لڑائی ختم ہوجائے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کبھی آپ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، حافظ نعیم الرحمان کا افغانستان کو مشورہ
دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا بھی اہم کردار ہے اور پاکستان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔













