امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی آئندہ ملاقات کے مقام کے انتخاب سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان نے صحافی کو تضحیک آمیز جواب دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ جلد ہی ہنگری کے دارالحکومت بُڈاپسٹ میں پیوٹن سے ملاقات کریں گے تاکہ یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پیوٹن کا ٹیلیفونک رابطہ، ہنگری میں ملاقات پر اتفاق
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ فیصلہ تنقید کی زد میں ہے کیونکہ روسسی صد پیوٹن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر رکھا ہے، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہنگری غالباً اس وارنٹ پر عمل نہیں کرے گا اور عدالت سے علیحدگی کے عمل میں ہے۔
جب ہف پوسٹ نے وائٹ ہاؤس سے پوچھا کہ ملاقات کے مقام کا انتخاب کس نے کیا، تو پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، تمہاری ماں نے، بعد ازاں وائٹ ہاؤس کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے بھی یہی جملہ دہرایا۔
ہف پوسٹ نے جب لیویٹ سے پوچھا کہ کیا انہیں اپنا جواب مزاحیہ لگا، تو انہوں نے کہا کہ انہیں یہ مضحکہ خیز اس لیے لگا کہ سوال کرنے والا شخص خود کو صحافی سمجھتا ہے، جبکہ دراصل وہ بائیں بازو کا انتہا پسند کارکن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایسے جانبدار اور جھوٹے سوالات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن کی کوششیں تعطل کا شکار، زیلنسکی کی پیوٹن سے مذاکرات کی اپیل
اسی سوال پر انڈیپینڈنٹ اردو نے وائٹ ہاؤس سے استفسار کیا کہ کیا ’تمہاری ماں‘ کہنا مناسب تھا، تو ترجمان ٹیلر راجرز نے جواب دیا کہ ’بالکل مناسب تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ سوال کرنے والا کوئی حقیقی رپورٹر نہیں بلکہ ڈیموکریٹک کارکن ہے، اس لیے جواب درست تھا۔ ان کے مطابق وائٹ ہاؤس پریس عملہ روزانہ سنجیدہ رپورٹرز کی درجنوں درخواستوں پر کام کرتا ہے اور سیاسی پروپیگنڈا کرنے والوں پر وقت ضائع نہیں کرتا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کے سیاسی بیانات اور لہجہ خاصا سخت ہو گیا ہے۔
فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں لیویٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ووٹ بینک حماس کے دہشت گردوں، غیر قانونی تارکین وطن، اور پرتشدد مجرموں پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن نوبیل انعام 2025 سے محروم: ’اب دنیا میں امن کی کوششوں کا کیا ہوگا؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کسی اصول پر نہیں بلکہ اپنے بائیں بازو کے انتہا پسند حلقوں کو خوش کرنے پر سیاست کر رہے ہیں، جن میں ان کے مطابق یہودی مخالفین، حماس کے حامی، غیر قانونی تارکین وطن، اور خطرناک مجرم شامل ہیں۔














