صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ آگاہی برائے چھاتی کا سرطان (19 اکتوبر 2025) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اس مرض کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیلنے لگا، ایک سال میں 5 ہزار کیسز سامنے آنے کی وجہ آخر کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ چھاتی کا سرطان خواتین میں سب سے عام سرطان ہے، لیکن اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو 90 فیصد تک علاج ممکن ہے۔
حکومتی اقدامات: مفت سہولیات اور کلینکس کا قیام
صدر زرداری نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان مفت میموگرافی اور تشخیصی سہولیات فراہم کر رہی ہے، جبکہ وزارتِ صحت کی سرپرستی میں ملک بھر میں بریسٹ کینسر کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سرطان کی ابتدائی علامات پہچاننے کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ دیہی علاقوں میں بھی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔
ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور دراز علاقوں کی خواتین کو علاج اور مشاورت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی خاتون سہولت سے محروم نہ رہے۔
آگاہی، معائنہ اور علاج، سرطان کے خلاف مؤثر ہتھیار
صدرِ مملکت نے کہا کہ آگاہی، بروقت معائنہ اور علاج چھاتی کے سرطان کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار، کیا اس کینسر کی شرح میں کمی ممکن ہے؟
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو باقاعدہ خود معائنہ اور اسکریننگ کی ترغیب دیں، کیونکہ خاموشی بیماری کو نہیں بلکہ زندگیوں کو ختم کرتی ہے۔
قومی عزم اور مستقبل کے منصوبے
صدر زرداری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان قومی کینسر رجسٹری اور کنٹرول پروگرام پر کام کر رہی ہے تاکہ اس مرض سے متعلق اعداد و شمار اور علاج کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن چھاتی کے سرطان سے بچاؤ کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ آگاہی بڑھائیں، جانیں بچائیں، اور اس مرض کو شکست دیں۔
آخر میں صدرِ مملکت نے دعا کی کہ ’اللہ تعالیٰ ہمارے اقدامات میں برکت دے اور مریضوں کو شفا عطا فرمائے‘۔














