اسرائیلی فوج نے غزہ پر نیا حملہ کیا، جس سے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے پائیدار امن میں بدلنے کی امیدیں مدھم ہو گئیں،اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر اتوار کے روز کیے گئے یہ حملے 11 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے بڑا امتحان بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
عینی شاہدین کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے رفح اور خان یونس میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اباسن کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
خان یونس کے رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر کے وقت اسرائیلی فضائیہ نے رفح پر متعدد فضائی حملے کیے۔ جب اسرائیلی حکومت کے ترجمان سے ان حملوں کی تصدیق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے معاملہ فوج کے سپرد کر دیا، تاہم فوج کی جانب سے کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
شمالی غزہ میں فضائی حملہ، 2 فلسطینی جاں بحق
مقامی محکمہ صحت کے مطابق اتوار کے روز شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوج نے رفح کے علاقے میں فضائی کارروائیاں اس وقت شروع کیں جب وہاں جنگجوؤں نے اسرائیلی افواج پر حملہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص ماخذ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے تصدیق کی کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی دستوں پر راکٹ لانچر اور سنائپر حملے کیے، جو اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوئے۔ عہدیدار کے مطابق یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم، دیر پا امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ
دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ حماس جنگ بندی کے معاہدے کی پابند ہے، اور اس کی خلاف ورزی اسرائیل کر رہا ہے۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 47 خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں 38 افراد ہلاک اور 143 زخمی ہوئے۔ ان خلاف ورزیوں میں شہریوں پر براہِ راست فائرنگ، گولہ باری، نشانہ بندی کے حملے اور گرفتاریوں کے واقعات شامل ہیں۔
رفح کراسنگ غیر معینہ مدت تک بند
اسرائیل اور حماس کئی دنوں سے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ آئندہ اطلاع تک بند رہے گی۔
رفح کراسنگ مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے لیے امداد میں اضافہ بھی شامل ہے، جہاں لاکھوں افراد قحط کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی کے ایک روز بعد ہی اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے
اسرائیل اور حماس کے درمیان تاحال یرغمالیوں کی باقی ماندہ لاشوں کی واپسی پر بھی تنازع برقرار ہے۔ اسرائیل کے مطابق حماس کو 28 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنی ہیں۔ اب تک حماس 20 زندہ یرغمالیوں اور 12 لاشوں کی حوالگی کر چکی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ باقی لاشیں ملبے تلے دبی ہیں جن کی بازیابی کے لیے خصوصی آلات اور وقت درکار ہے۔
ادھر امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے راستے میں بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکومت، ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے امور شامل ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے تمام سوالات امریکی محکمہ خارجہ کو بھیج دیے۔













