سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ میں آئینی ترمیم پر بحث، ججز کے سوالات نے سماعت کو نیا رخ دے دیا
سماعت کے آغاز پر وکیل اکرم شیخ روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ کی طرف سے تو لطیف کھوسہ صاحب نے درخواست دائر کر رکھی ہے؟ اکرم شیخ نے جواب دیا کہ لطیف کھوسہ صاحب میرے وکیل نہیں ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے لطیف کھوسہ نے آپ کی اجازت کے بغیر درخواست دائر کردی؟ اکرم شیخ نے کہا کہ وہ بطور درخواست گزار خود پیش ہو رہے ہیں اور کسی دوسرے درخواست گزار کی نمائندگی نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال بعد اس کیس کی باری آئی ہے، مجھے ایک ڈیڑھ گھنٹہ دے دیں تاکہ اپنی معروضات پیش کرسکوں۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہمیں آپ فل بینچ کے لیے کوئی آئینی راستہ بتائیں، ہم اپنے حلف کے پابند ہیں۔ ابھی تک آئین کے مطابق کسی وکیل نے دلائل نہیں دیے۔ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ آئین کو سائیڈ پر رکھ دیں۔
یہبھی پڑھیے: آپ فُل کورٹ کی بات نہ کریں، سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت
دلائل کے آغاز پر اکرم شیخ نے ایک شعر پڑھ کر سنایا، جس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم اپنے حلف کے پابند ہیں، ہم سب قوم کو جوابدہ ہیں اور ہم آئین کے ماتحت ہیں، ہمیں آئین کی رہنمائی چاہیے۔
اکرم شیخ نے عدالت میں دعا کرنے پر اصرار کیا، اجازت ملنے پر انہوں نے علامہ اقبال کا شعر پڑھ کر سنایا۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آپ کی رائے میں فل کورٹ کیا ہے؟ جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ یہ لاحاصل بحث ہے، میری معروضات ہیں کہ 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے، کیونکہ یہ آئینی بینچ اس کیس کو نہیں سن سکتا۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ اسی لیے سوال ہے کہ ایک غیر آئینی بینچ کے جج کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جائے؟ آپ 24 یا 16 پر متفق ہیں؟ اکرم شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ میں 24 ججز پر مشتمل بینچ کی تشکیل کی حمایت کرتا ہوں، 26ویں ترمیم سے پہلے اور بعد والے تمام ججز کو فل کورٹ کا حصہ بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: 26ویں آئینی ترمیم کیس: مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا، آپ کہتے ہیں کہ بے شک 24 ججز ہوں، لیکن وہ آئینی بینچ نہ کہلائے بلکہ سپریم کورٹ کہلائے؟ اکرم شیخ نے مؤقف اپنایا کہ 26ویں آئینی ترمیم ایک متنازعہ ترمیم ہے، کسی ڈکٹیٹر نے بھی آئین میں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اس ترمیم نے دیا ہے۔
اکرم شیخ نے مؤقف اپنایا کہ موجودہ رکنی بینچ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتا کیونکہ یہ بینچ اسی ترمیم کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ 24 رکنی فل کورٹ کو ہی کرنا چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چھوٹا بینچ بڑے بینچ کا فیصلہ کالعدم نہیں کرسکتا، مگر فل کورٹ بنانے کا حکم کون دے گا؟
جسٹس امین الدین نے کہا کہ جب تک آپ یہ ثابت نہیں کرتے کہ یہ بینچ اہل نہیں، آپ کی درخواست منظور نہیں ہوسکتی۔
دورانِ سماعت اکرم شیخ اور بینچ میں مکالمے بھی ہوئے، جن میں جسٹس نعیم اختر افغان نے تبصرہ کیا کہ آپ کی خواہش انوکھے لاڈلے جیسی ہے جو کھیلنے کو چاند مانگے۔ بعدازاں درخواست گزار وکیل شبر رضا رضوی نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ فل کورٹ کو کرنی چاہیے۔
عدالت نے مزید سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔














