کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟  

بدھ 22 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مطالعہ میں انکشاف ہوا کہ نمایاں اے آئی پلیٹ فارمز کی 80 فیصد سے زائد خبروں میں غلطیاں ہوتی ہیں یا وہ نامکمل معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق مشہور اے آئی اسسٹنٹس جن میں چیٹ جی پی ٹی، جیمینی، کوپیلوٹ اور پرپلیکسٹی شامل ہیں خبروں کی فراہمی میں درستی اور اعتبار کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔

اس مطالعے میں 14 مختلف زبانوں میں ان اے آئی سسٹمز کی کارکردگی، درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت، رائے اور حقیقت میں فرق کرنے کی اہلیت کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق مجموعی طور پر 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک بڑی غلطی پائی گئی جبکہ 81 فیصد جوابات میں کسی نہ کسی قسم کا مسئلہ موجود تھا۔

ذرائع کی درستی میں سنگین خامیاں

رپورٹ کے مطابق تہائی اے آئی اسسٹنٹس نے ماخذ سے متعلق سنگین غلطیاں کیں جن میں غلط یا گمراہ کن حوالہ جات اور غلط انتساب شامل تھے۔

مزید پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت آپ کے بجلی کے بل بڑھا رہی ہے؟

مطالعے میں بتایا گیا کہ گوگل کے اے آئی اسسٹنٹ جیمینی کے 72 فیصد جوابات میں ماخذ سے متعلق بڑی خامیاں موجود تھیں جب کہ دیگر تمام اسسٹنٹس میں یہ شرح 25 فیصد سے کم رہی۔

ڈیٹا کی کمی اور پرانی معلومات کا مسئلہ

خبروں کے درست ہونے کے حوالے سے بھی مسائل سامنے آئے۔ تحقیق کے مطابق تمام اے آئی اسسٹنٹس کے تقریباً 20 فیصد جوابات میں پرانی یا ناقص معلومات شامل تھیں۔

اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ غلط یا گمراہ کن معلومات کے مسئلے کو حل کرنے پر کام کر رہے ہیں جو عموماً ناکافی ڈیٹا یا غلط سیاق و سباق کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اداروں کی شمولیت

یہ تحقیق 18 ممالک کی 22 عوامی نشریاتی اداروں کے تعاون سے کی گئی جن میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، اسپین، یوکرین اور امریکا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے مذہبی معاملات کا بھی رخ کرلیا، مذاہب کے ماننے والے کیا کہتے ہیں؟

ای بی یو کے میڈیا ڈائریکٹر ژاں فلیپ ڈی ٹینڈر کا کہنا تھا کہ جب لوگ نہیں جانتے کہ کس پر بھروسہ کریں تو وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے اور یہی رویہ جمہوری شمولیت کے لیے خطرناک ہے۔

اے آئی کمپنیوں سے جوابدہی کا مطالبہ

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ اے آئی کمپنیوں کو خبروں کی درستی یقینی بنانے اور قابل اعتبار نیوز سمریز فراہم کرنے کے لیے جوابدہ بنایا جائے تاکہ عوام کو قابل بھروسہ معلومات میسر آئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟