ہائبرڈ نظام کھل کر معیشت کی بہتری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کام کرے، سینیئر صحافی ابصار عالم

جمعرات 23 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی و تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا  ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہمیشہ رہا ہے تاہم مختلف ادوار میں اس کے شراکت داروں کے حصے کے تناسب میں تبدیلی آتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں تبدیلی نہیں ہائبرڈ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، کامران مُرتضیٰ

وی نیوز کے پروگرام ’سیاست اور صحافت‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے ملک میں ہائبرڈ نظام ہے تو کھل کر بتائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی چیز معیشت کے لیے بھی کریں اور کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی اور عوام سے کہیں کہ ہائبرڈ نظام ہے اور اتنے عرصے میں معیشت کو ٹھیک کر لیں گے پھر اس کے بعد نئے الیکشن کروا کر سائیڈ پر ہو جائیں۔

ابصار عالم نے کہا کہ ہائبرڈ نظام صرف پاکستان میں نہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس میں بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق ہائبرڈ نظام دوطرفہ ہوتا ہے لیکن یہ بہت عرصہ تک کامیاب نہیں ہوسکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کی تعریفوں کی ایک اہم وجہ کیا ہے؟

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنا چاہیے، منافقت نہیں ہونی چاہیے۔

’انہوں نے کہا کہ ایران سے کھل کر جنگ کی تو اللہ نے فتح دی، بھارت سے کھل کر مقابلہ کیا تو اللہ نے سرخرو کیا اور اسی طرح اب کھل کر افغانوں سے لڑ رہے ہیں تو نتیجہ سب کے سامنے ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ منافقت نہ کریں، ایسے ہی کھل کر جواب دیں، جب تک آپ پراکسیز کر رہے تھے تو نقصان ہو رہا تھا یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بھی اب آپ کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: علیمہ خان پر حملہ اور پی ٹی آئی کا اسمبلی بائیکاٹ، ہائبرڈ نظام پر 2 لیگی رہنما آمنے سامنے

پی ٹی آئی کی سیاست کے حوالے سے ابصار عالم نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی بھی وقت پاکستان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جنگ ہو یا کرکٹ میچ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دشمنوں کا ساتھ دیا ہے۔ اللہ بھی تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ انہیں سزا مل رہی ہے۔ اب طے کر لیں کس راستے پر چلنا ہے، نیتن یاہو والے یا کسی اور راستے پر‘۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے ابصار عالم نے کہا کہ ان کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں، انہیں بھی وقت اور سکون درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف ایک حساس شخصیت کے حامل ہیں جو دوسروں کی عزت کا بہت خیال رکھتے ہیں اور کبھی اونچی آواز یا سخت لہجے میں بات نہیں کرتے۔

ابصار عالم نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک حساس انسان کے لیے تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو ان کے قریب تھے بعد میں ان کے مخالف بن گئے، ایسے تجربات کسی بھی انسان کو ہلا دیتے ہیں۔

ان کے مطابق معاشرے میں گالی دینے کا کلچر بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لیے گالی معمول کی بات ہے کیونکہ وہ ایسے ماحول میں پلے بڑھے ہیں مگر یہ حساس لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔

پرنٹ میڈیا سے آئے اور براہ راست ٹی وی سے شروع کرنے والے صحافیوں میں فرق

ابصار عالم نے پاکستانی میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں پرنٹ میڈیا کے لوگ ہی ٹی وی میں آئے لیکن بعد میں ایک نئی نسل نے براہ راست ٹی وی سے آغاز کیا جس میں پرنٹ کی اخلاقیات اور پروفیشنلزم کم دکھائی دیا۔

ابصار عالم نے اپنے صحافتی سفر کے حوالے سے کہا کہ جب انہوں نے صحافت شروع کی تو یہ وہی زمانہ تھا جو 16ویں صدی کے پرنٹنگ پریس کے آغاز سے چلا آرہا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہائبرڈ نظام کو تقویت ملی،حافظ نعیم الرحمان

ان کے مطابق صحافت تقریباً 4 سو سال تک اسی انداز میں جاری رہی صرف تکنیکی ترقی ہوئی جیسے ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر تک کا سفر یا سیاہ و سفید تصاویر سے رنگین پرنٹنگ تک۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کی صبح اخبار پڑھے بغیر شروع نہیں ہوتی تھی لیکن چونکہ پاکستان میں شرح خواندگی کم تھی اس لیے ٹی وی نے تیزی سے جگہ بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اخبار نہیں پڑھ سکتے تھے وہ ٹی وی کے ذریعے خبریں سننے اور دیکھنے لگے اور یہی انقلاب تھا۔

فیک نیوز کا سفر کہاں سے تیز ہوا؟

ابصار عالم نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے آنے سے رفتار بڑھ گئی اور ’سب سے پہلے خبر دینے‘ کی دوڑ شروع ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوڑ نے صحافتی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا اور غیر مصدقہ خبریں سامنے آنے لگیں اور یہی فیک نیوز کا پہلا قدم تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب مین اسٹریم میڈیا بھی اس رجحان سے متاثر ہو چکا ہے اور صحافی سیاسی وابستگیوں میں بٹ گئے ہیں۔

ابصار عالم نے کہا کہ ’نیوٹرل‘ ہونے کا تصور غلط ہے کیونکہ کوئی انسان مکمل غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھے صحافی کی رائے ضرور ہوتی ہے، خواہ وہ جنگ، گورننس یا کرپشن کوئی بھی معاملہ ہو۔

ابصار عالم نے ایک واقعہ سنایا کہ جب آفتاب اقبال نے جیو ٹی وی پر ’خبرناک‘ پروگرام شروع کیا تو وہ اکثر ’بے غیرت‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ’پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہے‘، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں ریمارکس

ابصار عالم نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ لفظ نامناسب ہے مگر آفتاب اقبال نے کہا کہ یہ عام بول چال کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے انہیں احساس ہوا کہ ثقافت انسان کی سوچ اور حساسیت کو شکل دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟