ایکس اے آئی نے وکی پیڈیا کے مقابلے میں گروکی پیڈیا لانچ کردیا

منگل 28 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے ایک نیا پلیٹ فارم ’گروکی پیڈیا‘ متعارف کرایا ہے جو کہ وکی پیڈیا کا مصنوعی ذہانت پر مبنی متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جن بوتل سے باہر: غزہ پر آواز اٹھانے کی سزا ملی، ایلون مسک مجھے سنسر کر رہے ہیں، چیٹ بوٹ گروک بول پڑا

گروکی پیڈیا میں تقریباً 9 لاکھ مضامین شامل ہیں اور اس کا مقصد زیادہ متوازن، درست اور سیاسی جانبداری سے پاک مواد فراہم کرنا ہے۔

ایلون مسک، جو کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی بھی ہیں، وکی پیڈیا پر بارہا ’ادارتی جانبداری‘ کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گروکی پیڈیا ایک زیادہ مستقل، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد معلوماتی ذریعہ ثابت ہوگا۔

مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ گروکی پیڈیا کا ورژن 0.1 اب لائیو ہے لیکن میری رائے میں 0.1 بھی وکی پیڈیا سے بہتر ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ گروکی پیڈیا کا مقصد تمام انسانی علم کا ایک اوپن سورس اور جامع ذخیرہ تیار کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: ٹرمپ کا کچا چٹھا کھولنے پر مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ کا اکاؤنٹ معطل

ابتدائی دن میں سائٹ زیادہ ٹریفک کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے کریش ہوئی مگر جلد ہی دوبارہ فعال کر دی گئی۔

گروکی پیڈیا کی لانچنگ دراصل ستمبر میں متوقع تھی تاہم مسک نے اسے ’پروپیگنڈا‘ پر مبنی مواد ہٹانے کے لیے مؤخر کر دیا۔

مزید پڑھیں: میں نے کبھی خود کو ’میکا ہٹلر‘ نہیں کہا، گروک کی وضاحت

اس موقعے پر مسک نے کہا تھا کہ ہم  ایکس میں گروکی پیڈیا بنا رہے ہیں اور یہ وکی پیڈیا سے زیادہ بہتر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دراصل یہ ایکس اے آئی کے اس ہدف کی طرف ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد کائنات کو سمجھنا ہے۔

ابتدائی صارفین کے مطابق گروکی پیڈیا کی سادہ اور کم سے کم ڈیزائن والی ہوم پیج پر Grokipedia v0.1 لکھا ہوا ہے اور ایک سادہ سرچ بار موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے: انڈیا میں وکی پیڈیا پر بندش کا امکان، جھگڑا کیا ہے؟

واضح رہے کہ وکی پیڈیا سنہ 2001 میں قائم ہواتھا اور یہ رضاکاروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور عطیات سے مالی معاونت حاصل کرتا ہے۔ یہ ایک غیر جانبدار نقطۂ نظر کی پالیسی پر عمل کرتا ہے جس کے تحت صارفین آزادانہ طور پر مواد شامل اور ترمیم کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا

سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک

سعودی سائنسدان عمر یغی کی 2025 کے کیمسٹری نوبل انعام پر سعودی تنظیم کی پذیرائی

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے