متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کہا ہے کہ کسی کو 27ویں آئینی ترمیم پر حیرانی اور پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ستائیسویں آئینی ترمیم گڈگورننس اور بہتر ہم آہنگی سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو اہم ٹاسک دے دیا گیا
انہوں نے کہاکہ ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہییں، ترمیم کے معاملے پر ہم نے خود وزیراعظم سے رابطہ کیا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ بلدیاتی حکومت کو بھی آئین کے تحت حکومت سمجھا جائے، آئین لوکل حکومت کا تحفظ کرے، اور سپریم کورٹ اس کی نگرانی کرے۔
انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کو اختیارات دے کر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، آئینی ترمیم کے معاملے پر کئی روز سے لوگ رابطے کررہے ہیں۔
آئین میں لکھا جائے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے کے بعد نئے انتخابات ہوں گے، فاروق ستار
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ آئین میں لکھا جائے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے کے بعد نئے انتخابات ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آئین میں وقت کے ساتھ ترامیم ہونی چاہییں جو ضروری ہے، کسی کو 27ویں آئینی ترمیم پر حیرانی اور پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
فاروق ستار نے کہاکہ مقامی حکومتوں کے قوانین مزید وضع کرنے کی ضرورت ہے، صوبائی خود مختاری کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کی خود مختاری بھی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم لانے کا اعلان کردیا ہے، جس کے لیے اتحادی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے 6 نومبر کو پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق فیصلہ کیا جائےگا۔














