وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) بورڈ کے نئے نوٹیفیکیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر نوٹیفیکیشن شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’کیا ہم بلوچستان والے خدا کے کم تر بندے ہیں؟‘ انہوں نے کہا کہ پورے پی ٹی وی کے نئے بورڈ میں بلوچستان سے ایک بھی رکن شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’نمائندگی کوئی احسان نہیں بلکہ ہمارا حق ہے‘۔
واضح رہے کہ وزارت اطلاعات نے پی ٹی وی بورڈ کے 5 نئے ڈائریکٹرز کی 3 سال کے لیے تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق لاہور کے لیے یاسر قریشی، پروفیسر ڈاکٹر اصغر ندیم بورڈ ڈائریکٹر تعینات کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے لیے خاتون تسنیم رحمان جبکہ سندھ کے لیے اشتیاق بیگ ڈائریکٹرز تعینات کیے گئے، اس کے علاوہ اسلام آباد کے لیے خالد محمود خان کو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے اس اعتراض پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے معاملے کی وضاحت کردی ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے نام شارٹ لسٹ کیے گئے تھے، تاہم ان کی دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث اس مرحلے میں ان کی تقرری کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی نمائندگی کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک آئینی حق کے طور پر یقینی بنائی جائے گی۔
عطااللہ تارڑ نے مزید کہاکہ پی ٹی وی بورڈ ابھی حتمی نہیں ہے اور اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچستان کی شمولیت جلد ممکن بنائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں